تصویر سوشل میڈیا
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال کے 2 دن بعد ان کی اہلیہ منصوره خجسته باقرزاده نے بھی داعیٔ اجل کو لبیک کہہ دیا۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق 2 دن قبل امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں وہ زخمی ہو گئی تھیں۔ علاج کے دوران ان کی موت ہو گئی۔ ان حملوں میں خامنہ ای اور ان کے خاندان کے کئی افراد بھی مارے گئے تھے۔ منصورہ نے 1964 میں خامنہ ای سے شادی کی تھی۔ وہ ہمیشہ عوامی زندگی سے دور رہیں اور کسی بھی سرکاری تقریب میں بہت کم نظر آتی تھیں۔
Published: undefined
امریکہ اور اسرائیل نے خامنہ ای کے خاندان کے دیگر افراد کی موت کی الگ سے تصدیق نہیں کی ہے، لیکن ایرانی سرکاری میڈیا مسلسل کہہ رہا ہے کہ حملوں میں ان کے خاندان کے کئی لوگ مارے گئے ہیں۔ ایران نے خامنہ ای کی موت کے بعد 40 دن کے قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔ خامنہ ای 1989 سے ایران کے سب سے بڑے سیاسی اور مذہبی رہنما تھے۔ ان کے انتقال کے بعد ایران ہی نہیں، دنیا کے کئی ممالک میں امریکہ اور اسرائیل کے تئیں ناراضگی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ خامنہ ای کے کمپاؤنڈ پر تقریباً 30 میزائلوں سے حملہ کیا گیا، جس میں ان کی بیٹی، داماد، بہو اور پوتی سمیت 40 کمانڈرز مارے جا چکے ہیں۔ خامنہ ای کی اہلیہ منصورہ خجستہ کے والد محمد اسماعیل خجستہ باقرزادہ مشہد کے معروف بزنس مین تھے۔ ان کے بھائی حسن ایران کے سرکاری ٹی وی اور ریڈیو نیٹورک اسلامک ریپبلک آف ایران براڈکاسٹنگ کے ڈپٹی ڈائریکٹر رہ چکے ہیں۔
Published: undefined
خامنہ ای اور ان کی اہلیہ کے 6 بچے ہیں، 4 بیٹے اور 2 بیٹیاں۔ بیٹوں کے نام مصطفیٰ، مجتبیٰ، مسعود اور میثم ہیں۔ بیٹیوں کے نام بشریٰ اور ہدیٰ ہیں۔ سب سے بڑے بیٹے مصطفیٰ ایک مذہبی عالم ہیں۔ انہوں نے ایرانی فلسفی عزیز اللہ خوشوقت کی بیٹی سے شادی کی اور ایران-عراق جنگ میں بھی حصہ لیا تھا۔ مسعود نے ایرانی رہنما محسن خرازی کی بیٹی سے شادی کی۔ مسعود کسی سرکاری یا غیر سرکاری عہدے پر فائز نہیں ہیں۔ خامنہ ای کے خاندان میں کئی پوتے پوتیاں ہیں، تاہم عوامی طور پر صرف ایک پوتے کا نام سامنے آیا ہے، جس کا نام محمد باقر خامنہ ای ہے۔
Published: undefined
خامنہ ای کے بارے میں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ وہ 3 بھائی تھے، جن میں محمد خامنہ ای اور ہادی خامنہ ای شامل ہیں۔ ان کی 4 بہنوں میں سے ایک بدری خامنہ ای 1980 کی دہائی میں ایران چھوڑ کر بیرون ملک چلی گئی تھیں۔ رپورٹس کے مطابق خامنہ ای کے کچھ بھتیجے اور پوتے بیرون ملک میں مقیم ہیں، جن میں سے بعض کے پیرس میں رہنے کی خبریں ہیں۔ خامنہ ای کے بیٹے اور بیٹیاں ایران میں ہی ساتھ رہتے ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined