دیگر ممالک

آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات: جنازے میں 14 ماہ کی پوتی کا بھی رکھا گیا چھوٹا سا تابوت

بدھ کے روز عراق کے مذہبی شہروں میں دعائیہ پروگرام منعقد ہوں گے۔ جب کہ جمعرات کے روز آبائی شہر ’مشہد‘ میں پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ آیت اللہ خامنہ کو سپرد خاک کیا جائے گا۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر (ویڈیو گریب)</p></div>

تصویر (ویڈیو گریب)

 

ایران کی راجدھانی تہران میں سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے آخری دیدار اور آخری رسومات کے سلسلے کا آغاز ہوا، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ ان کا تابوت ایران کے قومی پرچم سے لپٹا ہوا تھا اور اس پر ان کا سیاہ عمامہ رکھا گیا تھا۔ مرحوم کے خاندان کے دیگر افراد کے تابوت بھی ان کے ساتھ رکھے گئے تھے۔ جن میں ان کی 14 ماہ کی پوتی زہرہ محمدی گلپایگانی کا چھوٹا تابوت بھی شامل تھا۔

Published: undefined

رپورٹس کے مطابق زہرہ محمدی کی 28 فروری کو آیت اللہ علی خامنہ پر ہوئے حملے میں ہی موت ہو گئی تھی۔ آیت اللہ علی خامنہ کا جسد خاکی تہران لایا گیا۔ ان کی آخری رسومات سے متعلق عوامی رسومات ایران اور پڑوسی ملک عراق کے مختلف شہروں میں 6 دنوں تک منعقد کی جائیں گی۔ اس دوران ان کے جسد خاکی کو مختلف مذہبی مقامات پر لے جایا جائے گا، تاکہ مقامی افراد انہیں خراج عقیدت پیش کرسکیں۔ جمعہ کے روز شام سے ہی تہران میں ’گرینڈ مصلیٰ‘ کے باہر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہونے لگے تھے۔ ہفتے کے روز احاطہ عوام کے لیے کھولا گیا تو ہزاروں لوگ اندر پہنچے اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا مرکزی صحن سوگواروں سے بھر گیا۔

Published: undefined

خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق خراج عقیدت کے لیے پہنچنے والے کئی افراد سرخ پرچم لیے ہوئے تھے۔ جسے انتقام کی علامت تصور کیا جاتا ہے۔ اس دوران لوگوں نے امریکہ کے خلاف نعرے بھی لگائے اور انتقام کا مطالبہ بھی کیا۔  آخری دیدار کے دوران ایران کے کئی سینئر لیڈران بھی موجود رہے۔ پارلیمنٹ کے اسپیکر اور امریکہ کے ساتھ بات چیت میں ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قاليباف آب دیدہ نظر آئے۔ خراج عقیدت پیش کرنے والوں میں احمد واحدی بھی شامل تھے۔ جنہیں اس حملے کے بعد پاسداران انقلاب کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔ جس میں ان کے پیشرو افسر کی بھی موت ہو گئی۔

Published: undefined

واضح رہے کہ آیت اللہ علی خامنہ کا جسد خاکی پیر کے روز تک تہران میں رکھا جائے گا، اس کے بعد جسد خاکی کو آخری دیدار کے لیے شہر میں گھمایا جائے گا۔ منگل کے روز جسد خاکی کو مذہبی شہر ’قم‘ لے جایا جائے گا اور بدھ کے روز عراق کے مذہبی شہروں میں دعائیہ پروگرام منعقد ہوں گے۔ جب کہ جمعرات کے روز آبائی شہر ’مشہد‘ میں پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ انہیں سپرد خاک کیا جائے گا۔

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined