دیگر ممالک

’ارجنٹائنا فٹبال ایسوسی ایشن‘ ایک بار پھر تنازعہ میں، ایف بی آئی کی تحقیقات نے بڑھائی ٹینشن

اے ایف اے کے صدر کلاڈیو تاپیا کا ارجنٹائنا کے صدر جیویر میلیئی کے ساتھ بھی کافی عرصے سے اختلاف چل رہا ہے۔ دونوں کے درمیان ملک کے فٹبال کلبوں کی ملکیت کے ماڈل کو لے کر شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>

فائل تصویر آئی اے این ایس

 

ارجنٹائنا فٹبال ایسوسی ایشن (اے ایف اے) کو ایک بار پھر تنازعہ کا سامنا ہے۔ مصر کے خلاف ارجنٹائنا کی متنازعہ جیت پر اٹھنے والے سوالات ابھی تھمے بھی نہیں تھے کہ اب ایک نئی رپورٹ نے فٹبال کی دنیا میں ہلچل مچا دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ایف بی آئی نے اے ایف اے کی مالیاتی سرگرمیوں کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔ تحقیقات کا مرکزی نقطہ یہ پتہ لگانا ہے کہ ایسوسی ایشن نے امریکی مالیاتی نظام کے ذریعہ سینکڑوں ملین ڈالر کیسے بھیجے اور کیا ان لین دین میں کسی طرح کے منی لانڈرنگ یا دیگر مالیاتی جرائم ہوئے ہیں؟

ارجنٹائنا کے اخبار ’لا ناسیون‘ کی رپورٹ، جسے ’فوکس اسپورٹس‘ میکسیکو نے بھی شائع کیا، کے مطابق ارجنٹائنا فٹبال ایسوسی ایشن کے صدر کلاڈیو تاپیا کی قیادت میں کام کرنے والے وفاق کی مالی سرگرمیاں تفتیش کے دائرے میں ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آئی یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ ارجنٹائنا فٹبال ایسوسی ایشن نے امریکی بینکنگ نظام کے ذریعے اتنی بھاری رقم کس طرح سے منتقل کی اور کیا ان لین دین کے دوران امریکی قوانین کے تحت کوئی جرم ہوا ہے؟

رپورٹ کے مطابق فلوریڈا میں قائم ’ٹور پروڈ انٹر ایل ایل سی‘ تحقیقات کا بنیادی مرکز ہے۔ یہ کمپنی بیرون ملک اے ایف اے کی مالی ذمہ داریوں کا انتظام سنبھالتی ہے، جبکہ اس کے مالک تھیٹر سے وابستہ کاروباری شخصیت جیویر فارونی بتائے گئے ہیں۔ دستاویزات کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ فارونی اور ان کی اہلیہ ایریکا جلیٹ نے امریکہ کے 5 بڑے مالیاتی اداروں میں کھولے گئے بینک کھاتوں کے ذریعے سینکڑوں ملین ڈالر کا لین دین کیا۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’ٹور پروڈ انٹر ایل ایل سی‘ نے اے ایف اے کی تقریباً 260 ملین امریکی ڈالر کی آمدنی کا انتظام کیا۔ حالانکہ دستیاب بینک ریکارڈ کے مطابق اس رقم کا صرف ایک حصہ ہی وفاق کے حقیقی انتظامی اور آپریشنل اخراجات سے متعلق دکھائی دیتا ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً 57 ملین ڈالر مختلف کمپنیوں اور مستفید ہونے والے افراد کو منتقل کیے گئے، جن کے پس پردہ کوئی واضح معاشی جواز دستاویزات میں نظر نہیں آتا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان میں سے کئی کمپنیاں ایسی تھیں جن کی جانب سے کسی واضح خدمت کا ریکارڈ نہیں ملا۔ بعض کمپنیوں کا کنٹرول ایسے افراد کے پاس بتایا گیا ہے جو سرکاری سماجی بہبود کے منصوبوں سے فائدہ اٹھا رہے تھے اور باریلوچے یا بیونس آئرس میں رہتے تھے۔

اے ایف اے کے صدر کلاڈیو تاپیا ورلڈ کپ سے پہلے بھی کئی تنازعات کے باعث خبروں میں رہے تھے۔ بدعنوانی سے متعلق تحقیقات، گھریلو لیگ میں کی گئی غیر مقبول تبدیلیاں اور ورلڈ کپ سے قبل نسبتاً کمزور ٹیموں کے خلاف کھیلے گئے دوستانہ میچوں کو لے کر ان کی قیادت کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

58 سالہ کلاڈیو تاپیا کا ارجنٹائنا کے صدر جیویر میلیئی کے ساتھ بھی کافی عرصے سے اختلاف چل رہا ہے۔ دونوں کے درمیان ملک کے فٹبال کلبوں کی ملکیت کے ماڈل کو لے کر شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مارچ کے آخر میں میلیئی حکومت کی جانب سے درج کرائی گئی ایک شکایت کے بعد تاپیا پر ٹیکس چوری کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ اس کے چند گھنٹوں بعد ہی موریطانیہ کے خلاف ارجنٹائنا کے دوستانہ میچ سے قبل میدان میں انہیں اعزاز دیے جانے کے موقع پر شائقین نے ان کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے ان کی ہوٹنگ بھی کی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ دستاویزات کے مطابق ’ٹور پروڈ اینٹر ایل ایل سی‘ نے اے ایف اے سے کم از کم 260 ملین امریکی ڈالر کی آمدنی کا انتظام سنبھالا، لیکن بینک ریکارڈ میں اس کا صرف ایک حصہ ہی فیڈریشن کے حقیقی آپریٹنگ اخراجات سے جڑا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ دوسری طرف 57 ملین ڈالر مختلف کمپنیوں اور مستفید ہونے والوں کو بھیجے گئے، جن کے پیچھے کوئی واضح معاشی جواز نظر نہیں آتا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔