
تصویر/آئی اے این ایس
مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی اور ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے فون پر بات چیت کی۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں حالیہ پیش رفت اور کشیدگی کم کرنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر تبادلۂ خیال کیا۔ مصر کی وزارت خارجہ نے ہفتے کے روز جاری ایک بیان میں بتایا کہ دونوں وزراء نے ایسے ماحول پیدا کرنے کی کوششوں پر بات کی، جس سے سفارتی مذاکرات دوبارہ شروع کیے جا سکیں۔ اس میں 18 جون کو امریکہ اور ایران کے درمیان ہوئے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کو نافذ کرنے کا معاملہ بھی شامل تھا۔
عبدالعاطی نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ کشیدگی کو کم کرنے اور پرامن معاہدوں تک پہنچنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو مزید تیز کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے خطے میں سلامتی اور استحکام بحال کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے بین الاقوامی سمندری راستوں کی آزادی اور سلامتی یقینی بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ ساتھ ہی کہا کہ خلیجی ممالک کی سلامتی اور استحکام کا احترام کیا جانا چاہیے، تاکہ خطے کے تمام لوگوں کے مفادات کا تحفظ ہو سکے۔ بیان کے مطابق عراقچی نے مصر کے وزیر خارجہ کو حالیہ واقعات، جاری مذاکرات اور ان کے سامنے موجود چیلنجز کے بارے میں ایران کا موقف بتایا۔
واضح رہے کہ امریکہ-ایران ایم او یو کے تحت دونوں ممالک کو 60 دن کے اندر مذاکرات کر کے حتمی معاہدے تک پہنچنا تھا۔ یہ مدت پیر کو ختم ہوگئی، لیکن آبنائے ہرمز کو لے کر دوبارہ بڑھی کشیدگی کے بعد ان مذاکرات کا مستقبل اب بھی واضح نہیں ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بدھ کو کہا تھا کہ امریکہ ایران کے خلاف ’اب تک کی سب سے سخت اقتصادی مہم‘ شروع کرے گا۔ اس دوران ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران کو پڑوسی ممالک سے خطے میں ’نئے سکیورٹی نظام اور اقتصادی تعاون‘ کے حوالے سے کئی پیغامات موصول ہوئے ہیں۔
ہفتے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کی گئی ایک پوسٹ میں قالیباف نے کہا کہ امریکہ نے اسرائیل کے مفادات کے لیے دباؤ کی سیاست اور اپنے اتحادیوں کے مفادات کو نظر انداز کرکے اپنے ہر اتحادی کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ مقامی سطح پر تیار کردہ اور آزاد علاقائی نظام ہی حقیقی طور پر امن اور سلامتی کو یقینی بنا سکتا ہے۔
خبر رساں ایجنسی ’سنہوا‘ کے مطابق 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے مل کر ایران پر فضائی حملے کیے تھے۔ اس کے جواب میں تہران نے اسرائیل اور خطے کے مختلف ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کی جانب میزائل اور ڈرون بھیجے تھے۔ میڈیا رپورٹس میں علاقائی حکام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ خلیجی عرب ممالک واشنگٹن سے ناراض ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ امریکہ نے جنگ تو شروع کی لیکن ان سے جڑے سیکورٹی خطرات سے ان کا خاطر خواہ تحفظ نہیں کیا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔