دیگر ممالک

امریکہ نے ایران پر پھر کیا مہلک حملہ، مسلسل 10ویں رات بمباری جاری

’یو ایس سینٹرل کمانڈ‘ نے 21 جولائی کو بتایا کہ اس نے ایران کے کئی ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔ امریکہ نے کہا ہے کہ اس نے 900 سے زیادہ کمرشیل جہازوں کو آبنائے ہرمز عبور کرنے میں مدد کی۔

<div class="paragraphs"><p>ایران و امریکہ</p></div>

ایران و امریکہ

 

تصویر آئی اے این ایس

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ فی الحال ختم ہوتی ہوئی نظر نہیں آرہی ہے۔ امریکہ نے مسلسل 10 ویں رات کو بھی تہران پر فضائی حملہ کیا ہے۔ اس نے کئی مقامات پر شدید حملے کیے ہیں۔ ’یو ایس سینٹرل کمانڈ‘ نے 21 جولائی بروز منگل کو بتایا کہ اس نے ایران کے کئی ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔ امریکہ نے بڑا دعوی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے 900 سے زیادہ کمرشیل جہازوں کو آبنائے ہرمز عبور کرنے میں مدد کی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ ’’امریکی فوج نے ایران کے فوجی کمانڈ سینٹروں، بحری اڈوں، میزائل اور ڈرون لانچ سائٹس، اور فضائی دفاعی نظام پر حملے کیے ہیں، تاکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر مسلسل حملے کرنے کی ایران کی قوت کو کمزور کیا جا سکے۔‘‘

امریکہ نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمد و رفت مسلسل جاری ہے۔ مئی کے آغاز سے سینٹ کام کی افواج نے تقریباً 900 تجارتی جہازوں اور45  کروڑ بیرل خام تیل کی محفوظ آمد و رفت میں مدد فراہم کی ہے۔ اردن میں 2 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت وارننگ دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اگر ایران کی جانب سے ایک بھی امریکی فوجی کو نقصان پہنچا تو اس کا خمیازہ بھگتان پڑے گا۔‘‘ امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’’اگر ایران کسی امریکی فوجی کی جان لے گا تو اسے اس قتل کی قیمت کئی گنا زیادہ چکانی پڑے گی۔ یہ ہدایت وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین ڈینیئل کین اور فوج کے تمام اعلیٰ حکام تک پہنچا دی گئی ہے۔‘‘

ایران کی ’اسلامک ریولوشنری گارڈ کور‘ (آئی آر جی سی) نے دعوی کیا ہے کہ اس نے بحرین اور کویت میں موجود امریکی افواج پر بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔ آئی آر جی سی کے شعبہ تعلقات عامہ کے ایک بیان کے مطابق اس کی بحریہ نے ’آپریشن نصر-2‘ کے تحت 3 مرحلوں میں امریکی افواج کو کافی نقصان پہنچایا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔