
تصویر اے آئی
نیپال کے لیے مصیبتوں کا دور ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ چین میں جمعہ کی صبح زلزلہ آنے کے بعد ایک اور بھیانک سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ الرٹ جاری کیے جانے کے بعد نیپال واقع دھادینگ اور نواکوٹ میں تو ریسکیو آپریشن روکا ہی گیا، ساتھ ہی تبت میں بھی نئی آفت کے پیش نظر ریسکیو آپریشن روک دیا گیا ہے۔ نئی آفت کے اندیشہ کو دیکھتے ہوئے نیپالی وزیر اعظم بالین شاہ نے پورے ملک کو الرٹ موڈ پر رہنے کو کہا ہے۔
دراصل چین کے سچوان صوبہ میں آج صبح تقریباً 11.30 بجے 5.1 شدت کا شدید زلزلہ آیا تھا۔ زلزلہ کے بعد چین نے نیپال کو فوراً الرٹ کیا۔ اس زلزلہ کی وجہ سے چین کی شواوکن ندی اور پوئک تسانگپو ندی کے سنگم پر بنی ایک بڑی جھیل ٹوٹ گئی ہے، جس سے ایک بار پھر نیپال پر بھیانک سیلاب کا خطرہ منڈلانے لگا ہے۔ فوری طور پر لوگوں کو محفوظ مقامات کا رخ کرنے کو کہا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ تبت میں سیلاب کے بعد بنی بیریئر جھیل ٹوٹ گئی ہے، جس سے بھوٹے کوشی ندی کے ذریعے نیپال کی جانب مزید ایک زوردار بہاؤ آنے کا خطرہ منڈلانے لگا ہے۔ مقامی حکام نے بھوٹے کوشی، تریشولی اور نارائنی ندیوں کے کنارے رہنے والے لوگوں سے پوری طرح مستعد رہنے کو کہا ہے۔
اس درمیان نیپال کے قومی ترجمان نے بتایا کہ وزیر اعظم بالین شاہ نے فوری طور پر پورے نیپال کو الرٹ رہنے کی ہدایت دی ہے۔ نیپالی انتظامیہ مسلسل چین کے رابطے میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مزید ایک خوفناک سیلاب کے خطرہ کو دیکھتے ہوئے تمام سیکورٹی اہلکاروں کو فوری طور پر سرچ آپریشن روکنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ نیپال میں رسوا ضلع انتظامیہ نے دریا کے کنارے رہنے والے لوگوں سے انتہائی محتاط رہنے کو کہا ہے، کیونکہ چین کی طرف سے یہ اطلاع ملی ہے کہ جھیل ٹوٹ گئی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ پہلے نیپال پر زبردست خطرہ منڈلا رہا ہے۔ نیپال کے اوپر 5 ہزار کروڑ لیٹر کا ایک اور تباہ کن واٹر بم پھٹ سکتا ہے۔ نیپال میں بڑی 1500 سے زائد لوگ لاپتہ ہیں اور چین میں بھی تقریباً 600 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے، جن میں 100 سے زیادہ چینی شہری ہیں، جبکہ باقی غیر ملکی سیاح ہیں۔ چینی سرکاری میڈیا نے تبت کی گیرونگ کاؤنٹی میں 3 افراد کی موت اور 558 افراد کے لاپتہ ہونے کی خبر دی ہے، جن میں 260 غیر ملکی شہری بھی ہیں۔ چین کی وزارت خارجہ نے یہ بھی کہا کہ نیپال کی جانب تقریباً 100 چینی شہری لاپتہ تھے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔