
فائل تصویر آئی اے این ایس
کل یعنی پیر کے روز روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ علاقائی مسائل کو سفارت کاری کے ذریعہ حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے امریکہ کو آبنائے ہرمز میں عدم تحفظ اور کشیدگی کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
عراقچی نے علاقائی ممالک پر زور دیا کہ وہ مشترکہ سلامتی کے نظام کے لیے کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ خطے کے ممالک کو غیر علاقائی افواج کی موجودگی کے بغیر مشترکہ طور پر اپنی سلامتی کو یقینی بنانا چاہیے۔ انہوں نے ایسے کسی بھی اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے درست قدم قرار دیا۔ عراقچی نے کہا، "ہم کسی بھی ایسے اقدام کا خیرمقدم کرتے ہیں جو غیر علاقائی افواج کی موجودگی کے بغیر خطے کے اندر سے سلامتی کو یقینی بنائے۔ ہم اسے ایک درست قدم سمجھتے ہیں۔"
اس سے قبل عراقچی نے بھی ٹرمپ کے انتباہات کا جواب دیا اور انہوں نے واشنگٹن کو خبردار کیا کہ وہ ایران کے ساتھ ایک اور فوجی تصادم سے گریز کرے۔ عراقچی نے کہا کہ آخری بار جب امریکہ نے ایران کو " ختم کرنے" کی دھمکی دی تھی تو ایران اور مضبوط ہوا تھا۔‘‘ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے، عراقچی نے لکھا، "آخری بار جب آپ نے ختم کرنے کی کوشش کی، تو ایران اور بھی مضبوط ہوا تھا، کیا آپ اپنی قسمت دوبارہ آزمانا چاہتے ہیں؟ آئیں، لیکن ہوشیار رہیں، ہمارے پاس بھی کچھ نامکمل کاروبار ہے۔" ایرانی وزیر خارجہ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو پر بھی سنگین الزامات لگائے۔ انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو قانونی کارروائی اور قید سے بچنے کے لیے امریکہ کو ایک اور جنگ میں گھسیٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔