
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ
عام طور پر امریکہ کا جوہری پروگرام دنیا میں سب سے محفوظ تصور کیا جاتا ہے۔ کوئی بھی ملک اس کے جوہری پروگرام میں سیندھ لگانے کی سوچ بھی نہیں سکتا۔ لیکن کچھ واقعات نے امریکہ کے جوہری سائنسدانوں کی حفاظت پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ دراصل امریکہ میں گزشتہ 3 سالوں کے دوران جوہری پروگرام اور خلائی پروگرام سے منسلک 5 سائنسداں مشتبہ حالت میں غائب ہو گئے اور 5 سائنسدانوں کی موت ہو گئی۔ ان واقعات کے بعد امریکہ میں ایک ہلچل سی پیدا ہو گئی ہے اور جانچ کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔
Published: undefined
یہ 10 سائنسداں امریکہ کی سب سے محفوظ تصور کی جانے والی لیباریٹریز میں کام کرتے تھے۔ ان میں ناسا، لاس ایلاموس، ایم آئی ٹی شامل ہیں۔ ان سائنسدانوں میں کئی راکیٹ میٹل اور نیوکلیئر فیوزن جیسے حساس پروجیکٹ پر کام کر رہے تھے۔ غائب ہوئے یا مردہ پائے گئے سائنسدانوں کے سلوک میں ایک جیسا پیٹرن دیکھنے کو ملا۔ 5 معاملوں میں سائنسداں اپنے گھر سے بغیر فون، چابی، پرس لیے پیدل نکلے اور پھر واپس نہیں لوٹے۔
Published: undefined
امریکی ایئرفورس کے ریٹائرڈ جنرل ولیم نیل میکیسلینڈ نیوکلیئر فنڈنگ سے منسلک پروجیکٹ میں شامل تھے۔ وہ اس رواں سال 27 فروری کو گھر سے غائب ہوئے۔ ناسا کی راکیٹ سائنسداں مونیکا ریزا اور جوہری اسلحوں کے پرزے بنانے والے اسیٹون گارسیا بھی گھر سے اچانک غائب ہو گئے۔ گارسیا اپنا فون اور پرس گھر پر ہی چھوڑ کر گئے تھے۔ اسی طرح لاس ایلاموس لیباریٹری کی میلیسا کیسیاس بھی غائب ہو گئیں اور ان کا فون فیکٹری ریسیٹ موڈ میں پایا گیا۔ اینتھنی شاویز بھی مئی 2025 سے غائب ہو گیا۔ ان کے علاوہ کارل گرلمیئر نامی سائنسداں ناسا میں ایسٹرو فیزیسسٹ تھے۔ ان کا قتل گھر میں گھس کر کیا گیا۔ نیوکلیئر فیوزن کے سائنسداں نونو لوریئرو کا بھی قتل کر دیا گیا۔ ان پر نامعلوم حملہ آوروں نے حملہ کیا تھا۔ اس حملہ نے امریکی میڈیا میں خوب سرخیاں بٹوری تھیں۔
Published: undefined
اہم سائنسدانوں کے اس طرح اچانک غائب ہونے سے امریکہ میں تشویش کی لہر دیکھنے کو مل رہی ہے۔ گزشتہ بدھ کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وہائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولینا لیوٹ نے کہا کہ ’’ہم جانکاری حاصل کر رہے ہیں۔ جیسے ہی اس پر زیادہ جانکاری سامنے آئے گی، ہم آپ سبھی لوگوں سے شیئر کریں گے۔‘‘ انھوں نے یہ بھی مطلع کیا کہ ابھی جانچ انتہائی ابتدائی مراحل میں ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined