
امریکی فوجی
امریکہ-ایران جنگ میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجوں کی تعداد بڑھ کر 14 ہو گئی ہے۔ تازہ ہلاکت امریکی بحریہ کے ایک پائلٹ کی ہوئی ہے، جو جولائی کے آغاز میں بحیرۂ عرب میں ہیلی کاپٹر حادثے میں شدید زخمی ہو گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی جنگ میں زخمی ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد بڑھ کر 414 ہو گئی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے یہ معلومات فراہم کی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق زخمی فوجیوں میں بیشتر ٹرامیٹک برین انجری (ٹی بی آئی) یعنی سر اور دماغ پر شدید چوٹ کا شکار ہیں۔ اس نوعیت کی چوٹیں عموماً میزائل حملوں اور بڑے دھماکوں کے آس پاس موجود فوجیوں کو لگتی ہیں۔ بہرحال، تازہ موت مارچ میں جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی نئی ہلاکت ہے۔ اس سے قبل 13 امریکی فوجی مختلف واقعات میں مارے جا چکے تھے۔
حالیہ دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ حملوں کا سلسلہ شروع ہوا ہے، لیکن حکام نے یہ نہیں بتایا کہ تازہ حملوں میں کوئی نیا فوجی زخمی ہوا ہے یا نہیں۔ امریکی بحریہ نے پہلے یکم جولائی کو پیش آنے والے اس واقعہ کو ہنگامی لینڈنگ قرار دیا تھا۔ اس وقت کہا گیا تھا کہ ہیلی کاپٹر دشمن کے کسی حملے کی وجہ سے تباہ نہیں ہوا تھا۔ ہیلی کاپٹر میں سوار دیگر 3 اہلکاروں کو بحفاظت بچا لیا گیا تھا۔ اب پینٹاگون نے جولائی کی اپنی رپورٹ میں اس واقعہ کو جنگ سے غیر متعلق وجوہات کے باعث ہونے والی ہلاکت کے طور پر درج کیا ہے۔
اس سے قبل ہونے والی 13 ہلاکتوں میں 6 امریکی فوجی کویت میں ایک کمانڈ سینٹر پر ایرانی ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔ مزید ایک فوجی سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر ہونے والے حملے میں زخمی ہوا تھا اور ایک ہفتے بعد اس کی موت ہو گئی۔ مزید 6 فوجی عراق میں امریکی فوج کے ’کے سی-135‘ ایندھن بردار طیارے کے حادثے کا شکار ہونے سے ہلاک ہوئے تھے۔
سینٹرل کمانڈ کے ذریعہ دی گئی جانکاری کے مطابق اب تک 414 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں، جن میں 13 جولائی کو زخمی امریکی فضائیہ کے مزید ایک اہلکار کا نام بھی شامل کیا گیا ہے۔ تاہم اس کی چوٹ کی نوعیت کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ آیا وہ حالیہ حملوں میں زخمی ہوا تھا یا نہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ تقریباً تمام زخمی فوجی علاج کے بعد دوبارہ ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں۔ تاہم کتنے فوجیوں کو تشویش ناک حالت کے باعث علاج کے لیے جنگی علاقے سے باہر منتقل کیا گیا، اس بارے میں ابھی کوئی معلومات نہیں دی گئی ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔