خبریں

ڈونلڈ ٹرمپ آخر کیا چاہتے ہیں، جنگ یا امن؟

ٹرمپ مشرق وسطی کے حوالے سے کیا حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں؟ ڈوئچے ویلے کے تبصرہ نگار پیٹر فلپ کے خیال میں ٹرمپ اس جارحیت کے ساتھ امن کے اپنے ہی منصوبوں کو برباد کر رہے ہیں۔ تبصرہ ملاحظہ فرمائیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کیا چاہتے ہیں؟ جنگ یا امن
ڈونلڈ ٹرمپ کیا چاہتے ہیں؟ جنگ یا امن 

ڈوئچے ویلے کے تبصرہ نگار پیٹر فلپ کے مطابق جمعرات کی رات امریکی ڈرون طیارے کی تباہی کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بہت ہی یقین کے ساتھ ٹویٹ کی' ایران نے ایک بہت بڑی غلطی کی ہے۔‘ اس سے زیادہ انہیں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں تھی۔

Published: 23 Jun 2019, 8:00 AM IST

پیٹر فلپ لکھتے ہیں کہ ایسا لگتا ہے کہ کوئی بھی امریکا اور ایران کے مابین جنگ کے خطرے پر بات کرنے کو تیار نہیں۔ فریقین بدستور اس پر بحث و تکرار میں مصروف ہیں کہ ڈرون طیارہ ایرانی فضائی حدود میں تھا یا نہیں۔ ٹرمپ کے رد عمل نے صورتحال کو واضح کرنے کے بجائے مزید مبہم بنا دیا ہے۔

Published: 23 Jun 2019, 8:00 AM IST

ڈرون کی تباہی کے چند گھنٹوں کے بعد ہی صدر نے ایران کے خلاف حملے کی تیاری کے احکامات دے دیے۔ کہا گیا کہ امریکی طیارے عام شہریوں کی ہلاکتوں کو کم از کم رکھنے کے لیے ایرانی ریڈار اور میزائل تنصیابات کو نشانہ بنائیں گے۔

Published: 23 Jun 2019, 8:00 AM IST

دھمکی اور ساتھ ہی مذاکرات کی پیشکش

Published: 23 Jun 2019, 8:00 AM IST

ڈی ڈبلیو کے تبصرہ نگار مزید لکھتے ہیں کہ اس واقعے کے فوری بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے عمان سے ثالثی کی درخواست کی۔ اس سلطنت کی جانب سے امریکی انتباہ کچھ اس طرح سے پہنچایا کہ حملہ کی تیاری ہے لیکن صدر ٹرمپ جنگ نہیں چاہتے بلکہ وہ ایرانی قیادت سے مذاکرات کرنے کے خواہش مند ہیں اور تہران حکومت کی رضامندی ایک فضائی حملے کو ٹال سکتی ہے۔ اس موقع پر ایرانی حکام نے انتہائی صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای واشنگٹن کے ساتھ بات چیت کو پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں۔ تاہم امریکی پیغام ان تک پہنچا دیا جائے گا۔

Published: 23 Jun 2019, 8:00 AM IST

پیٹر فلپ کے بقول ٹرمپ نے خود کو ایک مشکل میں پھنسا دیا ہے۔ خلیج فارس اور بحیرہ ہند میں تعینات امریکی دستے کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیار ہیں۔ تاہم امریکا کی جانب سے حملے کی دھمکی اور تیاری صدر ٹرمپ کے اس موقف کی ایک طرح سے نفی ہے کہ وہ مذاکرات چاہتے ہیں۔

Published: 23 Jun 2019, 8:00 AM IST

ممکن ہے کہ صدر ٹرمپ خود پیدا کردہ ان حالات سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ تلاش نہ کر پائیں۔ انہوں نے یہ بھی محسوس کیا ہو گا کہ سخت گیر موقف رکھنے والے ان کے مشیر جان بولٹن اور وزیر خارجہ مائیک پومپیو جیسے لوگ بھی شاید اس سلسلے میں ان کی مدد نہ کر پائیں۔ ایسا ہو سکتا ہے کہ انہی نا معلوم فوجی مشیروں نے ان کی رہنمائی کی ہو، جنہوں نے حالیہ تنازعے میں انہیں خبردار بھی کیا ہو گا۔ عین ممکن ہے کہ ان مشیروں نے ٹرمپ پر واضح کیا کہ یہ انتہائی غیر دانشمندانہ فیصلہ ہو گا کہ اگر کوئی فوجی کارروائی اپنی مرضی سے شروع کی جائے اور انہیں یہ یاد دہانی کرائی ہو گی کہ ایسے کسی بھی فیصلے سے قبل سیاسی سطح پر اتفاق رائے لازمی ہے۔

Published: 23 Jun 2019, 8:00 AM IST

پیٹر فلپ کے بقول ایران کے ساتھ جنگ ان انتحابی وعدوں کی خلاف ورزی ہو گی، جو انہوں نے مہم کے دوران کیے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ مشرق وسطی کے خطے میں تعینات اپنے فوجیوں کو گھر واپس لانا چاہتے۔ اور اب وہ انہی فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کر رہے ہیں اور ایک ایسی جنگ میں دھکیل رہے ہیں، جس کے نتائج کا کسی کو علم نہیں۔

Published: 23 Jun 2019, 8:00 AM IST

ڈوئچے ویلے کے تبصرہ نگار پیٹر فلپ مزید لکھتے ہیں کہ اگر یہ جنگ نہیں بھی ہوتی تو پھر بھی ٹرمپ نے خطے کے لیے جو بڑے بڑے اعلانات کیے تھے، ان میں بہت کم ہی باقی بچا ہے۔ مثال کے طور پر اسرائیل اور فلسطین کے مابین قیام امن کا ''صدی کا منصوبہ‘‘۔ اس منصوبے کی تفصیلات ابھی تک عام نہیں کی گئی ہیں اور شاید کبھی کی بھی نہ جائیں۔ بس یہ واضح ہے کہ اس میں تمام اور جماعتیں شامل ہیں۔

Published: 23 Jun 2019, 8:00 AM IST

ٹرمپ کی اسرائیل کی غیر مشروط حمایت اور دو ریاستی حل سے دوری کی وجہ سے فلسطینی امریکی منصوبوں سے نالاں ہیں۔ مثال کے طور پر اگلے منگل کو امریکی ایماء پر عمان میں منعقد ہونے والے ایک اجلاس میں کوئی بھی فلسطینی شریک نہیں ہو گا۔ ساتھ ہی اسرائیل کی بھی باقاعدہ نمائندگی نہیں ہو گی۔ ساتھ ہی خطے کے دیگر ممالک نے بھی اگر اس اجلاس میں شرکت کی تو وہ اپنے اعلی اہلکار نہیں بھیجیں گے۔

Published: 23 Jun 2019, 8:00 AM IST

تبصرہ: پیٹر فلپ ترجمہ: عدنان اسحاق

Published: 23 Jun 2019, 8:00 AM IST

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: 23 Jun 2019, 8:00 AM IST