خبریں

چمگادڑیں، کورونا وائرس، چینی تحقیق اور 2018ء کی امریکی تنبیہ

نیا کورونا وائرس چین سے دنیا بھر میں کیسے پھیلا، سازشی نظریات کے حامیوں کو نئے دلائل مل گئے ہیں۔ امریکی سفارتی ذرائع نے 2018ء میں چمگاڈروں میں موجود وائرس پر ’غیرمحفوظ‘ چینی تحقیق سے خبردار کیا تھا۔

چمگادڑیں، کورونا وائرس، چینی تحقیق اور 2018ء کی امریکی تنبیہ
چمگادڑیں، کورونا وائرس، چینی تحقیق اور 2018ء کی امریکی تنبیہ 

کورونا وائرس کی جو نئی قسم اب تک دنیا بھر میں اکیس لاکھ سے زائد انسانوں کو بیمار اور ایک لاکھ چالیس ہزار سے زائد کو ہلاک کر چکی ہے، وہ ایک عالمی وبا کی صورت میں چین کے شہر ووہان سے پھیلی تھی۔ ووہان میں ہی چین کا بین الاقوامی معیار کا ایک ایسا جدید ترین سائنسی تحقیقی مرکز بھی ہے، جو ووہان انسٹیٹیوٹ آف وائرالوجی یا ڈبلیو آئی وی کہلاتا ہے۔ یہ سائنسی تحقیقی ادارہ چینی ریاست کی طرف سے مہیا کردہ وسائل استعمال کرتے ہوئے کام کرتا ہے۔

Published: undefined

اس بارے میں امریکا اور یورپ میں برطانیہ سمیت کئی ممالک یہ مطالبے بھی کرتے ہیں کہ چینی حکومت سے یہ وضاحت طلب کی جانا چاہیے کہ یہ وائرس ووہان سے نکل کر پوری دنیا میں کیسے پھیلا؟ امریکی خفیہ ادارے اور اعلیٰ فوجی حکام یہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ نیا کورونا وائرس شاید کسی تجربہ گاہ میں صرف انسانوں کا تیا رکردہ نہیں ہے بلکہ یہ قدرتی طور پر جانوروں میں بھی پایا جاتا ہے۔ مگر چین میں دو سال پہلے تک ووہان انسٹیٹیوٹ میں چمگادڑوں میں پائے جانے والے کورونا وائرس پر چینی ماہرین جو تحقیق کر رہے تھے، اس سے متعلق ماضی کی امریکی تنبیہات کی اب سامنے آنے والی تفصیلات کے باوجود اصل حقیقت تک پہنچنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔

Published: undefined

چین کی طرف سے کورونا وائرس کی وبا سے متعلق ہر قسم کے سازشی نظریات کی واضح طور پر تردید کی جاتی ہے۔ دوسری طرف امریکا اور چین کے کچھ سفارتی اہلکار اس وائرس کے پھیلاؤ سے متعلق ایک دوسرے کے ممالک پر دوطرفہ الزامات بھی عائد کر چکے ہیں۔ دو ماہ قبل فروری میں ووہان کے وائرالوجی انسٹیٹیوٹ نے ایسی افواہوں کی بھرپور تردید بھی کر دی تھی کہ نیا کورونا وائرس اس ادارے نےمصنوعی طور پر تیار کیا تھا۔

Published: undefined

اس سلسلے میں نئی تفصیلات امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی طرف سے شائع کردہ ایک ایسے مضمون میں سامنے آئیں، جس میں مصنف جَوش روگِن نے امریکی محکمہ خارجہ کی چند سفارتی دستاویزات کا باقاعدہ حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے دو سال پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ ووہان کے وائرالوجی انسٹیٹیوٹ کی جس تجربہ گاہ میں چمگادڑوں میں پائے جانے والے کورونا وائرس پر مطالعاتی تحقیق کی جا رہی تھی، وہ وہاں کیے گئے سلامتی کے مبینہ طور پر ناکافی انتظامات کے باعث 'غیر محفوظ‘ تھی۔

Published: undefined

ساتھ ہی ان امریکی سفارتی کیبلز میں یہ تنبیہ بھی کی گئی تھی کہ ڈبلیو آئی وی کی تجربہ گاہ میں سلامتی کی صورت حال اور انتظامی معاملات کمزور تھے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق نئے کورونا وائرس کی موجودہ وبا کے دنیا بھر میں پھیلنے سے دو سال قبل بیجنگ میں امریکی سفارت خانے کے حکام نے ووہان میں ڈبلیو آئی وائی کے متعدد دورے کیے تھے، جن کے بعد واشنگٹن حکومت کو دو مرتبہ ایسی تحریری تنبیہات کر دی گئی تھیں کہ ووہان کی تجربہ گاہ میں سلامتی کے انتظامات 'ناقص‘ تھے۔

Published: undefined

ان کیبلز میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ تب اس وائرس کے اس ادارے میں کام کرنے والے افراد میں منتقل ہو جانے کا خطرہ بھی موجودہ تھا۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا تھا کہ مختلف امریکی تحقیقی اداروں اور یونیورسٹیوں کو اس انسٹیٹیوٹ کے ساتھ اپنے تعاون میں اضافہ کرتے ہوئے اسے مزید وسائل بھی مہیا کرنا چاہییں تاکہ وہاں موجود خامیوں‌ پر قابو پایا جا سکے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ان سفارتی کیبلز میں مبینہ طور پر یہ بھی لکھا گیا تھا کہ ووہان انسٹیٹیوٹ میں چمگادڑوں میں پائے جانے والے کورونا وائرس کے 'پرخطر مطالعے‘ کیے جا رہے تھے۔

Published: undefined

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ان کیبلز میں کہی گئی باتوں کے تناظر میں امریکا میں ٹرمپ انتظامیہ میں اس بارے میں ہونے والی بحث شدید ہو گئی ہے کہ آیا ووہان میں پہلے پہل پھیلنے والا کورونا وائرس اسی تجربہ گاہ یا اسی شہر میں کسی اور لیبارٹری سے پھیلا تھا۔ تازہ بحث اور تفصیلات کے منظر پر آنے کے باوجود اس بارے میں کوئی بھی بات سو فیصد یقین کے ساتھ ابھی تک نہیں کہی جا سکتی۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined