
روحانی کا یہ بیان اپنے عراقی ہم منصب براھم صالح کے ساتھ ملاقات کے موقع پر سامنے آیا ہے۔ عراقی صدر برھم صالح آج ہفتہ 17 نومبر کو ہی ايرانی دارالحکومت تہران پہنچے، جہاں انہوں نے اپنے ہم منصب حسن روحانی سے ملاقات کی۔ عراقی صدر ایران کا دورہ ایک ایسے موقع پر کر رہے ہیں جب دو ہفتے قبل ہی امریکا نے ایران کے خلاف پابندیاں بحال کی ہیں۔ امریکی پابندیوں کا مقصد ایرانی تیل کی برآمدات پر قدغن لگانا اور اس کے بینکنگ نظام کو دنیا سے کاٹنا ہے۔
Published: undefined
ایرانی صدر حسن روحانی کے مطابق، ’’آج دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت 12 بلین ڈالرز (سالانہ) تک پہنچ گئی ہے اور باہمی کوششوں سے ہم اسے 20 بلین ڈالرز تک پہنچا سکتے ہیں۔‘‘
Published: undefined
عراقی حکام نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ عراق نے ایران کے ساتھ اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ایرانی گیس اور توانائی کے بدلے عراق ایران کو کھانے پینے کے اشیاء فراہم کرے گا۔
Published: undefined
روئٹرز کے مطابق بغداد حکومت امریکا کی طرف سے یہ اجازت ملنے کا انتظار کر رہی ہے کہ وہ اپنے پاور اسٹیشنز کے لیے ایرانی تیل درآمد کر سکے۔ عراقی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا کی طرف سے ایرانی تیل کی درآمد پر جو 45 دن کی چھوٹ دی گئی ہے وہ متبادل انتظامات کرنے کے لیے بہت کم وقت ہے۔
Published: undefined
عراق اپنے ہمسایہ ملک ایران سے متعدد اشیاء درآمد کرتا ہے جن میں خوراک اور زراعت کی مصنوعات کے علاوہ گھروں میں استعمال ہونے والی اشیاء، ایئرکنڈیشنر اور گاڑیوں کے اسپیئر پارٹس وغیرہ شامل ہیں۔ مارچ 2012ء کو ختم ہونے والے مالی سال کے دوران ایران کی طرف سے عراق کو برآمد کی جانے والی اشیاء کی مالیت چھ بلین امریکی ڈالرز کے برابر تھی جو کہ 2017ء کے دوران عراق کی مجموعی درآمدات کا قریب 15 فیصد بنتا ہے۔
Published: undefined
دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ برس توانائی کی فراہمی کا معاہدہ ہوا تھا جس کے سبب گزشتہ برس کے دوران مجموعی تجارت کا حجم 12 بلین امریکی ڈالرز تک پہ (UR): ایران اور عراق ک... نچ گیا۔
Published: undefined
ا ب ا / ع س (روئٹرز)
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined