
نریندر مودی / ڈونلڈ ٹرمپ (فائل)
وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے 24 مارچ کو وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان فون پر ہوئی بات چیت میں کسی تیسرے شخص کی شمولیت کے متعلق سامنے آئی خبروں پر ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ہم نے اس خبر کو دیکھا ہے، لیکن 24 مارچ کو ہوئی ٹیلی فون بات چیت صرف وزیر اعظم مودی اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان ہوئی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس بات چیت کے دوران مغربی ایشیا کی صورتحال پر دونوں لیڈران نے تبادلہ خیال کیا تھا۔
Published: undefined
واضح رہے کہ نریندر مودی اور ڈونالڈ ٹرمپ کی فون کال کے درمیان ایلون مسک کے شامل ہونے کا دعویٰ امریکی اخبار ’دی نیویارک ٹائمس‘ نے کیا ہے۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس کال میں ایلون مسک بھی شامل تھے، یہ اطلاع 2 امریکی افسران نے دی۔ حالانکہ اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ ایلون مسک نے بات چیت میں کچھ کہا یا صرف سن رہے تھے۔
Published: undefined
اس معاملہ کو ایسے سمجھا جا سکتا ہے کہ رپورٹس اور اصول و ضوابط یہ کہتے ہیں کہ 2 ممالک کے سربراہان کی بات چیت میں کسی تیسرے فرد کا شامل ہونا غیر معمولی سمجھا جاتا ہے، خاص کر جب معاملہ جنگ جیسے حالات کا ہو۔ ایسے میں میڈیا رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حالیہ کچھ وقتوں میں ایلون مسک اور ڈونالڈ ٹرمپ کے تعلقات میں دوبارہ بہتری آئی ہے، جبکہ گزشتہ سال دونوں کے درمیان اختلافات کی خبریں سامنے آئی تھیں۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ سے فون پر ہونے والی بات سے متعلق وزیر اعظم مودی نے کہا تھا کہ ’’دونوں لیڈران نے خطے میں امن بحال کرنے اور کشیدگی میں کمی پر زور دیا۔ ساتھ ہی آبنائے ہرمز کو محفوظ اور کھلا رکھنے کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا گیا۔‘‘
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined