خبریں

امریکی پارلیمنٹ نے ہندوستان اور چین جیسے ممالک پر 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے والا بل کیا منظور، صدر ٹرمپ کریں گے حتمی فیصلہ

بل کا نام ’لنڈسے او. گراہم سینکشننگ رشیا اینڈ ایران ایکٹ آف 2026‘ ہے۔ یہ بل بدھ کے روز ’ہاؤس آف ریپریزینٹیٹو‘ (ایوان زیریں) سے منظور ہوا۔ بل کے حق میں 262 اور مخالفت میں 159 ووٹ پڑے۔

<div class="paragraphs"><p>امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ</p></div>

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ

 

ہندوستان-چین سمیت کئی ممالک پر 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے والا بل امریکی پارلیمنٹ سے منظور ہو گیا ہے۔ بل کا نام ’لنڈسے او. گراہم سینکشننگ رشیا اینڈ ایران ایکٹ آف 2026‘ ہے۔ یہ بل بدھ کے روز ’ہاؤس آف ریپریزینٹیٹو‘ (ایوان زیریں) سے منظور ہوا۔ بل کے حق میں 262 اور مخالفت میں 159 ووٹ پڑے۔ سینیٹ (ایوان بالا) سے یہ بل پہلے ہی منظور ہو چکا ہے۔ اس بل میں صدر ٹرمپ کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ روسی تیل اور گیس خریدنے والے سرفہرست 5 ممالک پر 100 فیصد تک درآمدی محصول عائد کر سکتے ہیں۔ ان ممالک میں ہندوستان بھی شامل ہے۔ اس کے دائرے میں چین، سلوواکیہ، ہنگری اور آذربائیجان بھی آسکتے ہیں۔ اب یہ بل صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے پاس منظوری اور قانون بننے کے لیے جائے گا۔

یہ بل اس وقت منظور کیا گیا، جب حکمراں ریپبلکن پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ نے اس ہفتے اچانک اسے ووٹنگ کے لیے پیش کیا۔ ایک ہفتہ قبل تک نومبر کے انتخابات سے پہلے ٹرمپ کو مزید ٹیرف کا اختیار دینے کے مسئلے پر ریپبلکن اور ڈیموکریٹس پارٹی کے درمیان تنازعہ چل رہا تھا، اس لیے بل کا پاس ہونا مشکل لگ رہا تھا۔ پیر کے روز ’ہاؤس رولس کمیٹی‘ نے طریقۂ کار والی رکاوٹ کو ختم کر دیا، جس کی وجہ سے بل آسانی سے آگے بڑھ گیا۔ منگل کے روز ہاؤس نے 214-211 کے معمولی فرق سے فیصلہ لیا کہ بدھ کے روز اس بل پر حتمی ووٹنگ ہوگی۔ اس میں 2 ڈیموکریٹس رکن پارلمینٹ نے اپنی پارٹی کے خلاف جا کر ریپبلکن کے ساتھ ووٹ دیا۔ یہ بل صدر ٹرمپ کو مجبور نہیں کرتا ہے کہ وہ روس سے تیل-گیس خریدنے والے ممالک مثلاً ہندوستان پر ٹیرف لگائیں۔ بل صرف انہیں اختیار دیتا ہے کہ اگر ان کی مرضی ہو تو ٹیرف لگا سکتے ہیں۔ یوروپ کے کئی اتحادی ممالک کو رعایت بھی دی گئی ہے، کیوں کہ انہوں نے روس سے توانائی خریدنا پہلے ہی کم کر دیا ہے۔

سینیٹر جین شاہین نے کہا کہ کانگریس نے روس کے صدر پوتن کو واضح پیغام دیا ہے کہ امریکہ اس کے خلاف سخت رویہ اختیار کر رہا ہے۔ انہوں نے اس بل کی حمایت میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس بل کو پاس کرانے میں صدر ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس کا کردار نمایاں نہیں ہے۔ گزشتہ مہینے ایک امریکی سفیر سرجیو گور نے کہا تھا کہ ٹرمپ اس بل کی بہت زیادہ حمایت نہیں کر رہے تھے، جب کہ اراکین پارلیمنٹ انہیں ٹیرف لگانے کا زیادہ اختیار دینا چاہتے تھے۔ لیکن حالیہ میڈیا رپورٹس بتاتی ہیں کہ وائٹ ہاؤس نے اپوزیشن ڈیموکریٹ پارٹی کے کچھ اراکین پارلیمنٹ کو اس بل کی حمایت میں ووٹ دینے کے لیے راضی کیا، تاکہ بل کو آگے بڑھانے میں مدد مل سکے۔ امریکہ کا ماننا ہے کہ روس کی خام تیل تجارت یوکرین کے خلاف جنگ کے لے فنڈ جمع کر رہی ہے۔ حالانکہ 7 اگست کو یو ایس سینیٹ کے ذریعہ پاس بل میں روس کے کاروباری شراکت داروں کا نام نہیں لیا گیا ہے۔ لیکن 5 سب سے بڑے درآمد کنندگان کا ذکر کیا گیا ہے۔ فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ امریکہ ہندوستان کے خلاف کتنا اور کب ٹیرف لگانے والا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔