
ہندوستان اور پاکستان نے اپنے اپنے سفارتی ضوابط کے مطابق ایک دوسرے کو اپنے یہاں موجود قیدیوں کی فہرستیں فراہم کر دی ہیں۔ یہ فہرست ہر 6 ماہ بعد ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کی جاتی ہے۔ اس میں دونوں ممالک کی تحویل میں موجود عام شہری قیدیوں کی معلومات شامل ہوتی ہیں۔ یہ فہرستیں نئی دہلی اور اسلام آباد میں طے شدہ سفارتی ذرائع کے ذریعہ ایک دوسرے تک پہنچائی گئیں۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مئی 2008 میں سفارتی رسائی سے متعلق ہونے والے معاہدے کی شرائط کے تحت یہ معلومات کا تبادلہ اہم ذمہ داریوں میں شمار ہوتا ہے۔
Published: undefined
سال کے وسط میں ہونے والے اس سفارتی عمل سے دونوں ممالک کی سرحدوں پر حراست میں لیے گئے غیر ملکی شہریوں کے بارے میں واضح معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ نئی دہلی میں وزارت خارجہ کے سرکاری بیان کے مطابق ہندوستان نے ان 439 افراد کی تفصیلی فہرست پاکستان کو فراہم کی ہے جو اس وقت اس کی تحویل میں ہیں اور جن کے بارے میں یا تو پاکستانی شہریت کے دستاویزات موجود ہیں یا پھر ان کے پاکستانی نژاد ہونے کا قوی شبہ ہے۔ اس مجموعی تعداد میں 386 عام شہری قیدی اور 53 ماہی گیر شامل ہیں۔
Published: undefined
ہر سال یکم جنوری اور یکم جولائی کو ان فہرستوں کا تبادلہ معمول کی کارروائی ہے، تاہم اس مرتبہ دونوں حکومتوں نے قیدیوں کی فہرست پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اپنی بات مضبوطی سے پیش کی۔ ہندوستانی حکومت نے لاپتہ ہندوستانی دفاعی اہلکاروں، عام شہریوں اور ماہی گیروں کی جلد رہائی اور وطن واپسی کے اپنے پرانے مطالبے کو ایک بار پھر دہرایا۔ نئی دہلی نے خاص طور پر اسلام آباد سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان 188 ہندوستانی ماہی گیروں اور عام شہریوں کو واپس بھیجے جن کی سزا مکمل ہو چکی ہے، لیکن وہ اب بھی جیلوں میں بند ہیں۔ اس کے علاوہ ہندوستانی سفارت کاروں نے ایسے 13 عام قیدیوں تک فوری سفارتی رسائی کا مطالبہ کیا ہے، جن کے ہندوستانی ہونے کا شبہ ہے، لیکن انہیں اب تک سرکاری قونصلر سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ ہندوستانی حکومت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قانونی طور پر رہائی تک پاکستان تمام ہندوستانی قیدیوں کی حفاظت اور فلاح و بہبود کو یقینی بنائے۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined