
جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق قطر میں قائم طالبان کے دفتر کی طرف سے اس بات کی تصدیق کر دی گئی ہے کہ يہ عسکریت پسند گروپ جمعے کے روز ماسکو میں ہونے والے امن مذاکرات میں شرکت کرے گا۔ دوحہ میں طالبان کے دفتر کے ترجمان سہیل شاہین کے مطابق اس کانفرنس میں طالبان کا وفد افغانستان کی صورتحال کے پر امن حل کے لیے اپنا نقطہ نظر پیش کرے گا۔
Published: 07 Nov 2018, 6:42 AM IST
یاد رہے کہ پیر پانچ نومبر کو افغانستان کی امن کونسل نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ وہ جمعہ نو نومبر کو ماسکو میں ہونے والے امن مذاکرات میں شرکت کے لیے اپنا چار رُکنی وفد بھیجے گا۔
Published: 07 Nov 2018, 6:42 AM IST
افغان کی اعلیٰ سطحی امن کونسل کا کام عسکریت پسندوں اور ریاست کے درمیان بات چیت اور امن مذاکرات کی راہ ہموار کرنا ہے۔
Published: 07 Nov 2018, 6:42 AM IST
روسی حکومت کی جانب سے قبل ازیں رواں برس اگست میں یہ کانفرنس منعقد کرانے کا کہا گیا تھا تاہم افغان حکومت کے اعتراض کے سبب اسے مؤخر کر دیا گیا تھا۔
Published: 07 Nov 2018, 6:42 AM IST
طالبان کو افغان حکومت کے ساتھ امن مذاکرات پر آمادہ کرنے کی کوششیں اب تک لاحاصل رہی ہیں کیونکہ یہ عسکریت پسند گروپ افغان حکومت کو ’مغرب کی کٹھ پتلی‘ قرار دیتا ہے۔ دوسری طرف طالبان کی طرف سے افغان سکیورٹی فورسز کے خلاف حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
Published: 07 Nov 2018, 6:42 AM IST
Published: 07 Nov 2018, 6:42 AM IST
افغانستان کے مغربی صوبہ فراہ میں قائم ایک فوجی ایئر بیس پر طالبان کے حملے میں کم از کم 25 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ فراہ کی صوبائی کونسل کے ارکان داد اللہ قانح اور خیر محمد نورازئی نے جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کو بتایا کہ پیر اور منگل کی درمیانی شب طالبان عسکریت پسندوں نے پوشت کوہ نامی ضلعے میں قائم اس فوجی چھاؤنی پر حملہ کر دیا۔
Published: 07 Nov 2018, 6:42 AM IST
حکام کے مطابق طالبان کم از کم 20 فوجیوں کو یرغمال بنا کر ساتھ بھی لے گئے ہیں جن میں آٹھ زخمی فوجی اہلکار بھی شامل ہیں۔ جس وقت اس فوجی اڈے پر حملہ کیا گیا اُس وقت وہاں 50 سے 60 فوجی موجود تھے۔ حکام کے مطابق صوبہ فراہ کا زیادہ تر حصہ طالبان کے کنٹرول میں ہے۔
Published: 07 Nov 2018, 6:42 AM IST
ا ب ا / ع س (ڈی پی اے)
Published: 07 Nov 2018, 6:42 AM IST
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 07 Nov 2018, 6:42 AM IST