
عدالت سے رجوع کرنے والے درخواست گزار کا کہنا تھا کہ قومی سطح پر ہندو بے شک اکثریت میں ہیں لیکن آٹھ ریاستوں میں وہ اقلیت میں ہیں اس لیے انہیں اقلیتی حیثیت دی جانی چاہیے۔ بھارتی سپریم کورٹ نے تاہم کہا کہ مذہب کو الگ الگ ریاست کے بجائے پورے ملک کے تناظر میں دیکھاجانا چاہیے اور اگر مسلمان کشمیر میں اکثریت میں ہیں اور ملک کے دیگر حصوں میں اقلیت میں ہیں تو اس میں پریشانی کیا ہے۔؟
Published: undefined
حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان اور وکیل اشونی کمار اپادھیائے نے عدالت عظمی میں ایک عرضی دائر کر کے سن 1993 کے اس حکومتی حکم نامہ کو منسوخ کرنے کی درخواست کی تھی، جس کی رو سے بھارت میں مسلمانوں، مسیحیوں، سکھوں، بودھوں اور پارسیوں کواقلیت قرار دیا گیا ہے۔ اپادھیائے نے اسی کے ساتھ ہر ریاست میں آبادی کی بنیاد پر اقلیتوں کی شناخت کے لیے مرکزی حکومت کو نئی گائیڈ لائنس جاری کر نے کی بھی درخواست کی تھی۔ بھارت میں مذکورہ پانچ مذاہب کے ماننے والوں کے علاوہ جینیوں کو سن 2014 میں اقلیت قرار دیا گیا تھا۔
Published: undefined
چیف جسٹس ایس اے بوبڈے کی صدارت والی تین رکنی بینچ نے اس عرضی پر غور کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا، ”زبانیں ریاستی سطح پر محدود ہیں۔ مذاہب کی کوئی ریاستی سرحدیں نہیں ہوتی۔ ہمیں اسے پورے بھارت کے تناظر میں دیکھنا ہوگا۔ لکش دیپ میں مسلمان ہندو قانون پر عمل کرتے ہیں۔ اس لیے اگر مسلمان کشمیر میں اکثریت میں ہیں اور ملک کے دیگر حصوں میں اقلیت میں ہیں تو اس میں آپ کو کیا پریشانی ہے؟"
Published: undefined
سپریم کورٹ نے اپنے حکم کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا،”زبانوں کی بنیاد پر ریاستوں کی تشکیل ہوئی تھی لیکن مذہب کے ساتھ ایسا کوئی معاملہ نہیں ہے۔ اس لیے ریاستی آبادی کی بنیاد پر کسی فرقہ کو اقلیتی حیثیت نہیں دی جاسکتی ہے۔"
Published: undefined
بی جے پی کے رہنما نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ ہندو جو بھارت کی قومی مردم شماری کے مطابق اکثریت میں ہیں، وہ جموں و کشمیر اور شمال مشرقی ریاستوں میں اقلیت میں ہے۔ اس کے باوجود وہ اقلیتوں کے لیے حکومت کی طرف سے فراہم کردہ مراعا ت سے محروم ہیں۔
Published: undefined
اشونی اپادھیائے کی دلیل تھی کہ شمال مشرق ریاستوں میں ہندو اقلیت میں ہیں جب کہ وہاں کی اسّی سے نوے فیصد مسیحی آبادی اقلیتو ں کو ملنے والی مراعات کا فائدہ اٹھا رہی ہے۔ عرضی گزار کے مطابق لکش دیپ میں ہندوؤں کی تعداد 2.5 فیصد، میزورم میں 2.75 فیصد، ناگالینڈ میں 8.75 فیصد، میگھالیہ میں 11 فیصد، جموں و کشمیر میں 28 فیصد، اروناچل پردیش میں 29 فیصد، منی پور میں31 فیصد اور پنجاب میں 38.40 فیصد ہے۔ لیکن اقلیتوں کو ملنے والی حکومتی مراعات سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ہورہا ہے کیوں کہ وفاقی حکومت نے انہیں قومی اقلیتی کمیشن قانون کے تحت اقلیت قرار نہیں دیا ہے۔
Published: undefined
وفاقی حکومت کی طرف سے اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے کہا کہ یہ درست ہے کہ آٹھ ریاستوں میں ہندو اقلیت میں ہیں لیکن مرکز اس عرضی کی حمایت نہیں کر رہا ہے۔ انہوں نے سابقہ آئینی بینچوں کے فیصلوں کا حوالہ دیا، جس میں لسانی بنیاد پر اقلیت کا درجہ دینے کی بات کہی گئی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ اپادھیائے کو اس سے پہلے عدالت نے اس معاملے پر قومی اقلیتی کمیشن سے رجوع کرنے کے لیے کہا تھا لیکن انہوں نے اس شکایت کے ساتھ دوبارہ سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا کیونکہ قومی اقلیتی کمیشن ان کے معاملے پر کوئی فیصلہ کرنے سے قاصر رہا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined