
فائل فوٹو
آئی ٹی سیکٹر میں کام کرنے والے پیشہ ور افراد کے لیے 2026 کسی برے خواب سے کم ثابت نہیں ہو رہا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی ٹیک کمپنیوں میں شامل میٹا (جسے پہلے فیس بک کے نام سے جانا جاتا تھا) نے ایک بار پھر بڑے پیمانے پر ملازمین کو نکالنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ آنے والے چند ہی مہینوں میں کمپنی تقریباً 16,000 افراد کی چھنٹنی کرنے جا رہی ہے۔ یہ صرف ایک کمپنی کا حال نہیں ہے بلکہ پوری ٹیک انڈسٹری اس وقت ایک بڑے بدلاؤ اور بھاری چھنٹنی کے دور سے گزر رہی ہے۔
خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق میٹا اپنی اب تک کی سب سے بڑی ری اسٹرکچرنگ (تنظیمی تبدیلی) کا عمل شروع کرنے جا رہا ہے۔ اس کا پہلا مرحلہ 20 مئی سے شروع ہونے کا امکان ہے، جس میں براہ راست 8,000 ملازمین متاثر ہوں گے۔ گزشتہ سال 31 دسمبر کی فائلنگ کے مطابق کمپنی میں تقریباً 79,000 افراد کام کر رہے تھے۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر اتنی بڑی تعداد میں ملازمتیں کیوں جا رہی ہیں؟ اس کا سیدھا جواب ہے ’آرٹیفیشل انٹیلیجنس‘، یعنی اے آئی۔ کمپنی کے سربراہ مارک زکربرگ اے آئی، جنریٹو ٹولز اور مشین لرننگ کے بنیادی ڈھانچے پر زور دے رہے ہیں۔ کمپنی اپنے کام کاج کو تیزی سے خودکار یعنی سافٹ ویئر کے حوالے کرنا چاہتی ہے، جس کے باعث انسانی افرادی قوت کی ضرورت کم ہو رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سال کے دوسرے حصے میں بھی چھنٹنی کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined