
وائرس کی علامتی تصویر، آئی اے این ایس
نپاہ وائرس کا خوف ایک بار پھر پھیلتا ہوا دکھائی دے رہا ہے، حالانکہ فی الحال اموات کی تعداد بہت زیادہ نہیں ہے۔ یہ ایک مہلک وائرس ہے جس نے مغربی بنگال میں 2 طبی اہلکاروں کو موت کی نیند سلا کر لوگوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ یہ وائرس پوری دنیا میں اپنا قہر دکھائے، اس سے پہلے ہی تمام ممالک کی حکومتیں محتاط ہو گئی ہیں۔ یہ وائرس اتنا خطرناک ہے کہ اس سے بچاؤ ہی اس کا سب سے بڑا علاج تصور کیا جاتا ہے۔ حال ہی میں چین کی ایک دوا کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس سے نپاہ انفیکشن کو روکا جا سکتا ہے، حالانکہ اس سلسلے میں مصدقہ طور پر فی الحال کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔
Published: undefined
ہندوستان میں نپاہ وائرس کی تازہ ہلچل کو دیکھتے ہوئے پڑوسی ممالک کے ساتھ پورے ایشیا میں اسکریننگ کے ساتھ چوکسی شروع کر دی گئی ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ اس وائرس کی خوفناکی حقیقت ہے یا محض وہم؟ ہندوستان کے علاوہ کن ممالک میں ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے اور اس مہلک وائرس کی ابتدا سب سے پہلے کہاں سے ہوئی تھی؟
Published: undefined
نپاہ انفیکشن کے پھیلاؤ کی شروعات جنوبی ہندوستان سے ہوئی تھی، جہاں سب سے پہلے 2 نرسیں اس انفیکشن سے متاثر پائی گئی تھیں۔ اس کے بعد کئی لوگوں کو کوارنٹائن میں رکھا گیا، کیونکہ یہ وائرس کورونا کی طرح پھیلتا ہے۔ ہندوستان کے بعد ایشیا کے ہوائی اڈوں پر اسکریننگ شروع کی گئی۔ اب بنگلہ دیش، ویتنام، ملیشیا، سنگاپور اور تھائی لینڈ میں بھی اس خطرناک وائرس کے خلاف چوکسی کے لیے الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
Published: undefined
موجودہ حالات نے لوگوں کے ذہنوں میں کئی سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ وہ یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ کیا کورونا کی طرح سب کچھ بند ہو جائے گا؟ اس کا جواب آپ خود اس وائرس کی خطرناکی کو دیکھتے ہوئے تلاش کر سکتے ہیں۔ تاہم اگر مکمل احتیاط برتی جائے تو اس کے خطرے کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ ویتنام کے کین تھو شہر کے محکمۂ صحت نے حال ہی میں ’کوئک رسپانس ٹیم‘ تشکیل دی ہے اور سرحدوں پر مشتبہ مریضوں کی 14 دن تک نگرانی کی ہدایات دی ہیں۔
Published: undefined
اس جان لیوا وائرس کا پہلا معاملہ 99-1998 میں ملیشیا میں سامنے آیا تھا۔ ملیشیا کے ’سُنگئی نپاہ‘ نامی گاؤں میں سب سے پہلے اس کے مریض ملے تھے، اسی وجہ سے اس وائرس کا نام ’نپاہ‘ رکھا گیا۔ ابتدا میں یہ وائرس خنزیروں کے ذریعہ انسانوں تک پہنچا تھا، لیکن بعد میں سائنس دانوں نے پایا کہ یہ ’فروٹ بیٹس‘ (پھل کھانے والے چمگادڑ) سے انسانوں تک منتقل ہوتا ہے۔
Published: undefined
اس وائرس سے متعلق جو خوف ہے، اسے وہم قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ اس وائرس نے اپنی تباہی کے اثرات قبل میں چھوڑ رکھے ہیں۔ یہ واقعی نہایت جان لیوا وائرس ہے۔ اس کی اموات کی شرح 75 فیصد ہے، جو براہ راست اس کے خطرے کو ثابت کرتی ہے۔ یہ وائرس دماغ میں سوجن پیدا کرتا ہے، جس کی وجہ سے مریض سیدھا کوما میں چلا جاتا ہے۔ اس سے بھی بڑی بات یہ ہے کہ یہ وائرس کورونا کی طرح ایک شخص سے دوسرے شخص میں پھیلتا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined