
کمل ہاسن، تصویر آئی اے این ایس
مشہور و معروف اداکار اور سیاستداں کمل ہاسن نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو ایک کھلا خط لکھا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ اپنے کام سے کام رکھیں۔ کمل ہاسن نے یہ خط خاص طور سے ہندوستان پر ٹرمپ کے ذریعہ لگائی جا رہی بندشوں سے ناراض ہو کر لکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندوستان ایک آزاد ملک ہے جو اب کسی سے ’احکامات‘ نہیں لیتا۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب 6 مارچ کو امریکہ نے اعلان کیا کہ وہ ہندوستانی ریفائنریوں کو روسی تیل کی خریداری جاری رکھنے کے لیے 30 دن کی ’عارضی‘ رعایت دے رہا ہے۔
Published: undefined
کمل ہاسن نے ہفتہ کی شام اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ڈونالڈ ٹرمپ کے نام یہ کھلا خط جاری کیا۔ خط میں انہوں نے لکھا کہ ’’محترم صدر صاحب! ہم، ہندوستانی عوام، ایک آزاد اور خود مختار ملک کے شہری ہیں۔ اب ہم دور دراز کے ممالک سے احکامات نہیں لیتے۔ براہ کرم اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ اپنے کام سے کام رکھیں۔‘‘ وہ آگے لکھتے ہیں کہ ’’خودمختار ممالک کے درمیان باہمی احترام ہی دنیا میں دیرپا امن کی بنیاد ہے۔ ہم آپ کے ملک اور اس کی عوام کے لیے امن و خوشحالی کی دعا کرتے ہیں۔‘‘
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ امریکہ و اسرائیل کے ذریعہ ایران پر کیے گئے حملوں اور ایران کے ذریعہ جوابی حملوں کے درمیان پیدا حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے امریکہ نے ہندوستانی ریفائنریوں کو روس سے تیل یا توانائی خریدنے کی عارضی چھوٹ دی ہے۔ عالمی سطح پر پیدا موجودہ کشیدگی کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کا خدشہ بڑھ گیا ہے، جس کے اثرات خلیجی ممالک پر بھی پڑے ہیں۔
Published: undefined
امریکہ کے ذریعہ ہندوستان کو عارضی چھوٹ دیے جانے کے بعد روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا کا بھی ایک بیان سامنے آیا تھا۔ انھوں نے نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے حوالہ سے کہا کہ ہندوستان کی جانب سے روسی ہائیڈروکاربن کی خریداری دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہے اور اس سے عالمی توانائی منڈی میں استحکام برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined