
شمالی عراقی شہر موصل میں یہ مسجد داعش کے جہادیوں نے گزشتہ برس اس وقت تباہ کر دی تھی، جب وہ عراقی فورسز کا مقابلہ کر رہے تھے۔ النوری مسجد کو ان جہادیوں نے بارود سے اڑا دیا تھا۔
Published: undefined
بارہویں صدی عیسوی کی اس مسجد کی تعمیر نو میں اقوام متحدہ کا ادارہ برائے ثقافت یونیسکو بھی مدد کر رہا ہے، جب کہ متحدہ عرب امارات نے بھی اس مسجد کی تعمیر کے لیے پچاس ملین ڈالر ادا کیے ہیں۔
Published: undefined
اتوار کے روز اس مسجد کی تعمیر نو کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے سنی عراقی حکومتی عہدیدار عبدالطیف الحمیم نے کہا کہ اس مسجد کے منہدم ہونے والے میناروں کو دبارہ سے تعمیر کیا جائے گا۔
Published: undefined
عراقی تعمیراتی ٹیموں کے علاوہ متعدد غیرملکی کمپنیاں بھی تعمیرِ نو کی اس کاوش میں ساتھ ساتھ ہیں۔ نینیوا صوبے کے گورنر نواف العقوب کے مطابق مقامی اور غیرملکی اداروں کے اشتراک سے اس مسجد کے میناروں کو دوبارہ بلند کیا جائے گا۔
Published: undefined
واضح رہے کہ النوری مسجد ہی میں سن 2014ء میں دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے سربراہ ابوبکر البغدادی نے خودساختہ خلافت کا اعلان کیا تھا۔ البغدادی پہلی اور آخری مرتبہ اسی مسجد میں عوامی سطح پر دکھائی دیے تھے۔ اس مسجد میں البغدادی کا یہ خطاب اس نام نہاد ’اسلامک اسٹیٹ‘ کی جانب سے بعد میں بھی اس گروہ کے زیراثر چلنے والی ویب سائٹس پر موجود رہا تھا۔
Published: undefined
سن 2014ء میں ’اسلامک اسٹیٹ‘ نے موصل پر قبضہ کیا تھا، تاہم گزشتہ برس جولائی میں عراقی وزیراعظم حیدرالعبادی نے اس شہر سے داعش کے جنگجوؤں کی پسپائی اور عراقی فورسز کی فتح کا اعلان کیا تھا۔ اس شہر پر قبضے کے لیے عراقی فورسز کو نو ماہ کا عرصہ لگا تھا۔
Published: undefined
گزشتہ برس دسمبر میں بغداد حکومت نے عراق بھر میں ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے خلاف مکمل فتح کا اعلان کیا تھا۔ ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے خلاف عسکری آپریشن میں عراقی فورسز کی مدد امریکی قیادت میں بین الاقوامی عسکری اتحاد کے فضائی حملوں کے تناظر میں ممکن ہوئی تھی، جو تین برس سے زائد عرصے تک جاری رہے۔
Published: undefined
ع ت، الف الف (ڈی پی اے، اے ایف پی)
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined