
بلیا: اجے کمار للو مقتول صحافی رتن سنگھ کے گھر والوں سے ملنے بلیا جا رہے تھے کہ ان کے قافلہ کو رائے بریلی میں پولیس نے روک لیا، اس کے بعد اجے کمار للو نے بلیا کی جانب پیدل ہی سفر شروع کردیا۔ لیکن کچھ دور کے بعد پولیس نے انہیں اپنی حراست میں لے لیا اور رائے بریلی میں واقع سمس پور پنچھی وہار گیسٹ ہاؤس لے گئی۔
کرناٹک کانگریس کے صدر ڈی کے شیوکمار نے بتایا کہ ان کا کورونا وائرس کا ٹسٹ ہوا تھا جس میں وہ مثبت پائے گئے ہیں۔ انہیں بنگلورو کے نجی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے یوپی میں بڑھتے ہوئے جرائم کے معاملے میں ریاست کی یوگی حکومت کو ایک بار پھر گھیرا ہے۔ انہوں نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ "19 جون۔ شری شبھ منی ترپاٹھی کا قتل، 20 جولائی۔ شری وکرم جوشی کا قتل، 24 اگست۔ شری رتن سنگھ، بلیا کا قتل۔ 3 ماہ میں 3 صحافیوں کا قتل ہوا۔ 11 صحافیوں پر خبر لکھنے کی وجہ سے ایف آئی آر، صحافیوں کے تحفظ اور آزادی کے بارے میں یوپی حکومت کا رویہ قابل مذمت ہے۔ "
بی ایس پی کی سربراہ مایاوتی نے کہا کہ اتر پردیش میں کورونا وبائی دور کے دوران بھی جرائم میں کوئی کمی نہیں آ رہی ہے اور اب یہاں تک کہ میڈیا والے جن کو جمہوریت کا چوتھا ستون سمجھا جاتا ہے، وہ قتل و جرائم کے شکار ہو رہے ہیں۔ اعظم گڑھ ڈویژن میں صحافی کا قتل اس کی تازہ مثال ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اترپردیش میں حکومت کی بدحالی کی حالت یہ ہے کہ بات بات پر راسوکا ، غداری وطن اور دیگر انتہائی سنگین دفعہ کا استعمال کرنے کے باوجود جرائم کم نہیں ہو رہے ہیں۔
راہل گاندھی نے آج ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ "میں مہاڑ حادثے سے افسردہ ہوں۔ جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت۔ ریاستی حکومت سے اپیل ہے کہ جلد از جلد زخمیوں اور پھنسے ہوئے لوگوں تک مدد پہنچائیں، انہوں کانگریس کارکنان سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ حادثہ متاثرین کی جلد از جلد مدد کریں
ممبئی سے ملحق رائے گڑھ ضلع کے مہاڈ علاقہ میں کل شام ایک پانچ منزلہ عمارت منہدم ہوجانے سے 100سے زیادہ لوگوں کے ملبہ میں پھنسے ہونے کا اندیشہ ہے اور ایک کی موت کی خبر ہے۔ ذرائع کے مطابق عمارت دس برس پرانی ہے اور اس میں چالیس گھر بنے ہوئے تھے۔ عمارت کل شام تقریباً چھ بجے بیٹھ گئی۔
ممبئی اور پنے میں تعینات نیشنل ڈیزاسٹر ریلیف فورس (این ڈی آر ایف) کی ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچ گئی اور مقامی انتظامیہ کے ساتھ مل کر بچاو کام شروع ہوگیا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 25 Aug 2020, 7:55 AM IST