خبریں

مارکو روبیو کے دعوے ’روس سے تیل نہیں خریدے گا ہندوستان‘ پر جرمنی میں ہندوستانی وزیر خارجہ جے شنکر نے دیا جواب

ایس جے شنکر نے کہا کہ ’’ہندوستان اپنی اسٹریٹجک خود مختاری کی پالیسی پر پوری طرح پابند ہے اور ملک کی توانائی کی خریداری کا انحصار قیمت، خطرات اور دستیابی جیسے عوامل پر ہوگا۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>مرکزی وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر، تصویر یو این آئی</p></div>

مرکزی وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر، تصویر یو این آئی

 

جرمنی میں منعقدہ میونخ سیکورٹی کانفرنس میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک بار پھر اعادہ کیا کہ ہندوستان نے واشنگٹن کو یقین دلایا ہے کہ وہ روس سے اضافی تیل نہیں خریدے گا۔ ہندوستانی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اسی کانفرنس کے اگلے سیشن میں اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اسٹریٹجک خود مختاری کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ یعنی کہ ہندوستان بیرونی دباؤ کے بغیر اپنے قومی مفادات کے مطابق آزادانہ طور پر فیصلے لینے کا پابند ہے۔

Published: undefined

واضح رہے کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے 14 فروری کو روس پر امریکی پابندیوں کی بات کہی تھی، کیونکہ یورپی ممالک یوکرین جنگ کو روکنے کے لیے امریکہ پر دباؤ ڈال رہے تھے۔ روبیو کے مطابق ہندوستان نے روس سے اضافی تیل نہ خریدنے کا یقین دلایا ہے، جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ فی الحال جو تیل کے آرڈر عمل میں ہیں وہ متاثر نہیں ہوں گے، لیکن اس بارے میں ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ ’رائٹرز‘ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سرکاری ملکیت والی کمپنیوں سمیت ہندوستانی کمپنیاں اپریل میں ڈیلیوری کے لیے روسی تیل خریدنے سے گریز کر رہی ہیں۔

Published: undefined

دوسری جانب میونخ سیکورٹی اجلاس میں جرمنی کے وزیر خارجہ جوہان ویڈفل کے ساتھ میٹنگ میں ایس جے شنکر نے کہا کہ ’’ہندوستان اپنی اسٹریٹجک خود مختاری کی پالیسی پر پوری طرح پابند ہے اور ملک کی توانائی کی خریداری کا انحصار قیمت، خطرات اور دستیابی جیسے عوامل پر ہوگا۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ عالمی توانائی کی مارکیٹ کافی پیچیدہ ہے اور ہندوستان کی تیل کمپنیاں وہی فیصلے کریں گی جو ان کے مفادات میں ہوں گے میرا خیال ہے کہ یورپ اور شاید دنیا کے دیگر حصوں کی طرح ہی ہندوستان کی تیل کمپنیاں بھی دستیابی، لاگت اور خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ فیصلے کرتی ہیں جو انہیں اپنے بہترین مفاد میں لگتے ہیں۔ ہندوستان کے پاس ایسے فیصلے کرنے کا اختیار موجود ہے جو مغربی نظریات سے ہم آہنگ نہ ہوں۔

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ امریکہ نے روسی تیل خریدنے کے متعلق ہندوستان پر جو اضافی 25 فیصد ٹیرف عائد کیا تھا اسے ہٹا دیا ہے۔ ٹرمپ نے امریکی وزیر تجارت کو ہندوستانی تیل کی خریداری پر کڑی نظر رکھنے کی ذمہ داری بھی سونپی ہے۔ اگر امریکہ کو پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان نے بالواسطہ یا بلا واسطہ طور پر روسی تیل کی درآمد دوبارہ شروع کر دی ہے تو 25 فیصد تعزیری ڈیوٹی دوبارہ عائد کی جا سکتی ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined