
وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال (فائل) / آئی اے این ایس
منگل (3 نومبر) کو ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ازبکستان میں ہندوستانی طلبہ کی تعلیم اور مغربی ایشیا کی صورتحال سمیت کئی اہم موضوعات پر بات کی۔ جیسوال نے کہا کہ ہم مغربی ایشیا کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ہم اب بھی تمام فریقوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بات چیت اور سفارتکاری کا راستہ اختیار کریں، تاکہ خطے میں امن اور استحکام بحال ہو سکے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ اس تنازعہ کے باعث بڑی تعداد میں لوگوں کی جانیں گئی ہیں اور لوگوں کی زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ اس کے اثرات صرف اسی خطے تک محدود نہیں ہیں بلکہ پوری دنیا پر پڑے ہیں۔ عالمی سطح پر غذائی اشیاء، ایندھن، کھاد اور مالیاتی سرگرمیاں بھی اس سے متاثر ہوئی ہیں۔ ہم تمام فریقوں سے لڑائی بند کرنے اور دشمنی ختم کرنے کی اپیل کرتے ہیں، تاکہ حالات معمول پر آ سکیں۔
نیپال میں ہیلی کاپٹر حادثے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر ترجمان جیسوال نے بتایا کہ انہیں نیپال میں ہیلی کاپٹر حادثے کی اطلاع ملی ہے۔ ہم نے 2 ہیلی کاپٹروں کے ٹکرانے کی تصاویر بھی دیکھی ہیں۔ حادثے میں ایک ہندوستانی شہری کی موت کی اطلاع ہے۔ وہاں سے جسد خاکی جلد از جلد لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
جیسوال نے بتایا کہ وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے روس کے وزیر خارجہ سے ملاقات کی ہے۔ گزشتہ چند مہینوں میں ان کی روسی وزیر خارجہ سے کئی ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ اس بار بھی اٹلانٹا میں ان کی ملاقات ہوئی۔ اس دوران انہوں نے روس اور یوکرین کے تنازعہ سے متعلق یوکرین کی صورتحال، مغربی ایشیا میں جاری تنازعہ اور دوطرفہ و کثیرجہتی اہمیت کے کئی دیگر امور پر تبادلۂ خیال کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’جہاں تک امن قائم کرنے میں ہندوستان کے کردار یا اس کے خیالات کا سوال ہے، میں پہلے بھی ہمارے موقف کے بارے میں بتا چکا ہوں۔ ہم نے اپنی تجاویز یوکرین اور روس دونوں فریقوں کے ساتھ شیئر کی ہیں۔ آپ نے صدر پوتن کے تبصرے بھی دیکھے ہوں گے اور یوکرین کے وزیر خارجہ کے ردعمل بھی سنے ہوں گے۔‘‘
ہندوستانی طلبہ سے متعلق معاملے پر بات کرتے ہوئے جیسوال نے کہا کہ ہم مسلسل ازبکستان کی حکومت اور متعلقہ حکام کے رابطے میں ہیں۔ آپ نے تاشقند میں واقع ہندوستانی سفارت خانے کی جانب سے جاری کی گئی کچھ ہدایات دیکھی ہوں گی۔ اس کے علاوہ نیشنل میڈیکل کمیشن (این ایم سی) نے بھی کچھ رہنما خطوط اور مشورے جاری کیے ہیں۔ یہ صرف ازبکستان ہی نہیں بلکہ دوسرے ممالک میں تعلیم حاصل کرنے کا منصوبہ بنانے والے طلبہ کے لیے بھی ہیں۔ میں آپ سے درخواست کروں گا کہ ان ہدایات کو ضرور پڑھیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ حکومت اس بات کے لیے پوری طرح پرعزم ہے کہ ازبکستان میں تعلیم حاصل کرنے، خاص طور پر میڈیکل کی تعلیم کے لیے جانے والے ہندوستانی طلبہ کو معیاری تعلیم ملے۔ میڈیکل تعلیم کا معیار ایسا ہونا چاہیے جو ہندوستان کے نیشنل میڈیکل کمیشن کے طے کردہ قواعد اور معیارات کے مطابق ہو۔
یورپ میں جاری احتجاجی مظاہروں اور بدامنی کے حوالے سے وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ آپ نے دیکھا ہوگا کہ ہمارے سفارت خانوں نے فرانس اور اٹلی میں ہدایات جاری کی ہیں۔ بیلجیم کے بارے میں میرے پاس فی الحال مکمل معلومات نہیں ہیں۔ ہم نے وہاں رہنے والے ہندوستانی شہریوں اور طلبہ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ہماری جانب سے جاری کردہ ہدایات اور مقامی حکومتوں کی طرف سے جاری کیے گئے احکامات پر عمل کریں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
تصویر:سوشل میڈیا