
ہندوستان میں افغانستان کے نائب سفیر مفتی نور احمد نور (ویڈیو گریب)
افغانستان کے نائب سفیر (چارج دی افیئرز) مفتی نور احمد نور نے پیر (17 اگست) کو نئی دہلی میں منعقدہ ایک عوامی تقریب میں ہندوستان اور افغانستان کے درمیان مضبوط سیاسی اعتماد، اقتصادی شراکت داری اور روابط کی پرزور وکالت کی۔ 15 اگست 2021 کو کابل میں طالبان کی اقتدار میں واپسی کے 5 سال مکمل ہونے کے موقع پر افغان سفارت خانے کی جانب سے یہ استقبالیہ تقریب منعقد کیا گیا تھا۔ اس تقریب میں ہندوستان کی وزارت خارجہ میں پاکستان-افغانستان-ایران ڈویژن کے جوائنٹ سکریٹری آنند پرکاش بھی موجود رہے۔ حالانکہ ہندوستان نے اب تک باضابطہ طور پر طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے۔
ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق نور احمد نور نے واضح کیا کہ افغانستان کی خارجہ پالیسی ’متوازن روابط اور عدم مداخلت‘ پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ افغانستان تمام ممالک کے ساتھ مثبت، عملی اور پائیدار تعلقات چاہتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط اقتصادی شراکت داری اور آپسی روابط نہ صرف ہندوستان اور افغانستان کے لیے فائدہ مند ہوگا بلکہ پورے خطے میں استحکام، کنیکٹیویٹی اور مشترکہ خوشحالی کو بھی فروغ دے گا۔
ہندستان-افغانستان کے دوطرفہ تعلقات کی پیش رفت پر گفتگو کرتے ہوئے نور نے کہا کہ حالیہ سالوں میں دونوں ممالک کے سفارتی رابطوں میں توسیع ہوئی ہے۔ سفارت خانہ اور قونصل خانہ زیادہ فعال ہوئے ہیں اور فریقین کے اعلیٰ سطحی وفود نے ایک دوسرے کی راجدھانیوں کا دورہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور انسانی تعاون کے حوالے سے ایک انتہائی مثبت ہم آہنگی پیدا ہوئی ہے۔
اس کے علاوہ دونوں ممالک کے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے نور نے کہا کہ کابل، ہرات اور قندھار جیسے قدیم تاریخی شہروں نے ہمیشہ ہندوستانی تاجروں کا خیرمقدم کیا، جبکہ دہلی اور لاہور جیسے شہروں پر افغان علماء اور صوفیوں کے اثرات رہے ہیں۔ سیاسی میدان میں بھی دونوں ممالک نے برطانوی نوآبادیاتی حکمرانی کے خلاف آزادی کی جدوجہد میں ایک دوسرے کو تحریک دی۔ انہوں نے اسے ایک ایسی مشترکہ تاریخ قرار دیا جو بہتر مستقبل کے لیے تحریک فراہم کرتی ہے۔
افغانستان کے نائب سفیر نور نے بین الاقوامی پلیٹ فارموں پر افغانستان کے جائز حقوق کے دفاع کے لیے ہندوستان کی کوششوں کی تعریف کی اور مستقبل میں بھی حمایت کی امید ظاہر کی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ افغانستان کا استحکام صرف افغان شہریوں کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے خطے کی اقتصادی ترقی، تجارت، توانائی کی ترسیل اور سلامتی کے لیے بھی ایک بڑا موقع ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔