خبریں

اگر کوئی شخص یہ سوچتا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کو نہیں ہونا چاہیے تو وہ خود کو ’ہندو‘ کہہ ہی نہیں سکتا: موہن بھاگوت

دنیا بھر کے مذہبی رہنماؤں کے درمیان اپنی بات رکھتے ہوئے آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے واضح کیا کہ ’’ہندو ہونے کی پہلی شرط ہی یہ ماننا ہے کہ تمام مذاہب کے راستے ایک ہی خدا تک جاتے ہیں۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>موہن بھاگوت / آئی اے این ایس</p></div>

موہن بھاگوت / آئی اے این ایس

 
IANS

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے امریکہ کے نیویارک میں منعقدہ ’ایک دنیا، ایک انسانیت‘ کانفرنس میں ایک اہم پیغام دیا۔ بھاگوت نے کہا کہ اگر کوئی شخص یہ سوچتا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کو نہیں ہونا چاہیے تو وہ خود کو ’ہندو‘ کہہ ہی نہیں سکتا۔ دنیا بھر کے مذہبی رہنماؤں کے درمیان اپنی بات رکھتے ہوئے آر ایس ایس سربراہ نے واضح کیا کہ ’’ہندو ہونے کی پہلی شرط ہی یہ ماننا ہے کہ تمام مذاہب کے راستے ایک ہی خدا تک جاتے ہیں۔‘‘ انہوں نے زور دے کر کہا کہ انسانوں میں کوئی تفریق نہیں ہو سکتی اور ہر شخص کا احترام ہی انسانیت کی حقیقی بنیاد ہے۔

موہن بھاگوت نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ میں ایسے معاشرے کے لیے کام کر رہا ہوں، جو روایتی طور پر یہ کہتا ہے کہ مذاہب الگ الگ ہو سکتے ہیں، لیکن انسانیت ایک ہے، سچ ایک ہے اور انسانیت اسی سچ کی پیداوار ہے۔ اس لیے انسانیت ایک ہے اور سچ ایک ہے۔ اسے الگ الگ طریقوں سے بتایا اور سمجھایا جاتا ہے۔ ہم انسان اپنے تجربات اور اپنی حدود کے قیدی ہیں۔

اپنے خطاب میں موہن بھاگوت نے یہ بھی کہا کہ اگر ہم معاشرے کو تعلیم یافتہ نہیں بناتے ہیں تو بھٹکاؤ آتا ہے۔ تاریخ میں کسی نہ کسی طرح ایسا۔ میں اس لمحے کے بارے میں نہیں بتا سکتا۔ اس کے بعد ہمارا معاشرہ، ہمارا ملک غیر ملکی حملوں کا نشانہ بن گیا اور بہت سی چیزیں کھو گئیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ دنیا میں کئی مذاہب ہیں۔ آج دنیا میں مذاہب کی شناخت بنیادی طور پر رسومات سے ہوتی ہے۔ کسی مذہبی نظم و ضبط کو اپنانے اور خدا تک پہنچانے والے اس راستے پر چلنے کے لیے رسومات کی یہ پابندی بھی ضروری ہے۔

قابل ذکر ہے کہ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت رواؓ ہفتے کے آغاز میں نیویارک کے دورے پر پہنچے ہیں۔ یہاں ان کے 3 ممالک (امریکہ، کناڈا اور برطانیہ) کے گلوبل آؤٹ ریچ دورے کا پہلا مرحلہ ہے۔ یہ تنظیم کے صد سالہ جشن کی سرگرمیوں کے تحت غیر ملکی مقامی تنظیموں کی دعوت پر ہو رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔