خبریں

وینٹی لیٹرز کی کمی دور کرنے کے لیے حکومتی اقدامات

دنیا بھر میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے بحران کی وجہ سے وینٹی لیٹرز کی مانگ میں بہت اضافہ ہو گیا ہے۔ صرف پاکستان اور بھارت ہی نہیں بلکہ برطانیہ اور امریکا اسی وجہ سے پریشانی کا شکار ہیں۔

وینٹی لیٹرز کی کمی دور کرنے کے لیے حکومتی اقدامات
وینٹی لیٹرز کی کمی دور کرنے کے لیے حکومتی اقدامات 

پاکستان میں نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل کا کہنا ہے کہ ملک میں اس وقت 2200 کے قریب وینٹی لیٹرز موجود ہیں۔ وہ کورونا کے بحران کا مقابلہ کرنے کے لیے مزید دس ہزار وینٹی لیٹرز خریدنا چاہتے ہیں لیکن عالمی سطح پر وینٹی لیٹرز کی قلت کی وجہ سے انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس لیے ایک طرف وہ پرانے وینٹی لیٹرز کو ٹھیک کروا رہے ہیں تو دوسری طرف چین سے نئے وینٹی لیٹرز حاصل کر رہے ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں وہ ایک ہزار کے قریب نئے وینٹی لیٹرز حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

Published: undefined

وینٹی لیٹرز کی عدم دستیابی

Published: undefined

پاکستان میں میڈیکل کا سامان امپورٹ کرنے والی 250 قومی اور بین الاقوامی کمپنیوں کی نمائندہ رجسٹرڈ تنظیم ہیلتھ کیئر ڈیوائسز ایسوسی ایشن پاکستان کے چیئرمین مسعود احمد نے ڈی ڈبلیو سے ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ اس وقت پاکستان میں بائیس کمپنیاں وینٹی لیٹرز درآمد کر رہی ہیں اور اس وقت پاکستان میں سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں 2800 کے لگ بھگ وینٹی لیٹرز موجود ہیں، ''اگر ہم مبالغے سے کام لے کر اس تعداد کو تین یا چار ہزار بھی تصور کر لیں تو پھر بھی یہ تعداد موجودہ حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے بہت ہی کم ہے۔ میرے خیال میں صرف دو کروڑ کی آبادی والے کراچی شہر میں کورونا بحران کے پیش نظر 150 کے قریب وینٹی لیٹرز کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔‘‘

Published: undefined

وینٹی لیٹرز کی کمی دور کرنے کے لیے حکومتی اقدامات

Published: undefined

مسعود احمد کے بقول پاکستان میں وینٹی لیٹرز امریکا، چین، جرمنی، سوئٹزرلینڈ، اٹلی اور یو کے سمیت مختلف ملکوں سے امپورٹ کیے جاتے ہیں، لیکن اس وقت چین کے علاوہ کہیں سے بھی یہ نہیں مل رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مارکیٹ میں موجود تمام وینٹی لیٹرز حکومت نے اٹھا لیے ہیں اور مغربی ممالک نئے آرڈرز کی سپلائی کے لیے 14 سے 16 ہفتے کا ٹائم دے رہے ہیں جبکہ چینی وینٹی لیٹرز 15 سے 30 دنوں کے اندر مل رہے ہیں: ''پاکستان کی حکومت اس مسئلے کو بہت بہتر انداز میں حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ این ڈی ایم اے نے ہمیں کہا ہے کہ آپ وینٹی لیٹرز منگواؤ ہم ون ونڈو آپریشن کے ذریعے اسے آپ سے خرید لیں گے، وینٹی لیٹرز سمیت شعبہ صحت میں استعمال ہونے والی 62 مصنوعات پر تین ماہ کے لیے تمام ٹیکسز ہٹا دیے گئے ہیں۔ اسٹیٹ بینک نے بھی ہیلتھ امپورٹرز کے لیے مراعات کا اعلان کیا ہے، میری اطلاع کے مطابق اب تک نجی شعبے کی طرف سے پانچ ہزار سے زائد وینٹی لیٹرز کے لیے آرڈرز دیے جا چکے ہیں۔‘‘

Published: undefined

ایک سوال کے جواب میں ایسوسی ایشن کے چئیرمین کا کہنا تھا کہ مختلف معیار کے حساب سے ایک وینٹی لیٹر کی قیمت 20 سے 40 لاکھ روپے کے درمیان ہوتی ہے۔ ذخیرہ اندوزی کے حوالے سے پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اگلے چند ہفتوں میں نئے وینٹی لیٹرز پاکستان پہنچنا شروع ہو جائیں گے اس لیے جن لوگوں نے ٹیکس ادا کر کے مہنگے وینٹی لیٹرز خریدے تھے وہ انہیں زیادہ دیر ذخیرہ نہیں کر سکیں گے: ''پاکستان میں وینٹی لیٹرز سیکٹر کی سالانہ گروتھ 15 فیصد کے قریب ہے۔ ہم تقریباﹰ 95 فیصد طبی آلات باہر سے منگواتے ہیں۔ بیرونی دنیا پر اس انحصار میں کمی لائی جانی چاہیے اور زندگی بچانے والے آلات کو ٹیکسوں میں مستقل رعایت ملنی چاہیے۔‘‘

Published: undefined

پرانے وینٹی لیٹرز کی مانگ میں اضافہ

Published: undefined

الخدمت ہیلتھ فاؤنڈیشن کے منیجنگ ڈائریکٹر سفیان احمد نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ نئے وینٹی لیٹرز کی عدم دستیابی کی وجہ سے مارکیٹ میں پرانے، استعمال شدہ لیکن ریفربشڈ وینٹی لیٹرز کا کام بھی زوروں پر ہے۔ ان کے بقول ان استعمال شدہ وینٹی لیٹرکی قیمت جو چند دن پہلے تک تین سے چار لاکھ روپے تھی اب 12 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ ان کے بقول الخدمت نے اپنے جن 10 ہسپتالوں کو کورونا کے مریضوں کےعلاج کے لیے وقف کیا ہے ان کے لیے ہم نے حال ہی میں 30 وینٹی لیٹرز خریدے ہیں لیکن اس سلسلے میں ایک بڑا مسئلہ ان افراد کی تربیت کا ہے جنہوں نے زندگی بچانے والی اس مشین کو استعمال کرنا ہے، ''اس مقصد کے لیے ہمارے ڈاکٹرز اور ماہرین نے گائیڈ لائنز تیار کر لی ہیں اور ہم سوموار 30 مارچ سے اس ضمن میں آن لائن تربیتی کلاسیں شروع کر رہے ہیں، ہم اپنی اس سہولت کو سرکاری ہسپتالوں کے ساتھ بھی شئیر کریں گے۔‘‘

Published: undefined

پاکستان میں ماہرین کا خیال ہے کہ کورونا بحران سے پیدا ہونے والی صورتحال کا ایک اچھا پہلو یہ ہے کہ پاکستان کے ہیلتھ سیکٹر کی کیپیسٹی بلڈنگ شروع ہو گئی ہے اور آئندہ کسی بحران سے بچنے کے لیے ہمیں صحت کے شعبے کی طرف ترجیحی طور پر اور دیانت دارانہ توجہ دینا ہوگی۔ ایک خاتون صحافی نے اپنے ایک حالیہ کالم میں لکھا ہے کہ جس دنیا میں 13,890 جوہری ہتھیار ہیں اس دنیا میں ایک لاکھ افراد کے لیے محض ایک وینٹی لیٹر ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined