
ایئر انڈیا ایکسپریس کا طیارہ / آئی اے این ایس
حیدرآباد سے تھائی لینڈ کے پھوکیت جا رہی ایئر انڈیا ایکسپریس کی ایک پرواز کی بدھ کے روز پھوکیت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہارڈ لینڈنگ ہوئی۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس دوران طیارہ کے اگلے حصہ، یعنی نوز گیئر کو بہت نقصان پہنچا۔ اس واقعہ سے ایئرپورٹ پر ہلچل مچ گئی۔ تاہم کچھ دیر بعد حالات معمول پر آ گئے۔
Published: undefined
ایئرپورٹ اتھارٹی نے طیارہ میں سوار تمام 133 مسافروں کو بحفاظت باہر نکال لیا۔ واقعہ کے بعد ایئرپورٹ اتھارٹی نے ’نوٹم‘ (نوٹس ٹو ایئر مشن) جاری کرتے ہوئے مقامی وقت کے مطابق شام 6 بجے تک رنوے بند کر دیا۔ اس سے کچھ پروازوں کے آپریشن متاثر ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
Published: undefined
موصولہ اطلاع کے مطابق حیدرآباد سے تھائی لینڈ کے پھوکیت جا رہے ایئر انڈیا ایکسپریس کے بوئنگ-737 میکس-8 طیارے کو لینڈنگ کے دوران تکنیکی خرابی کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث اس کا اگلا لینڈنگ گیئر ٹوٹ گیا اور طیارہ رنوے پر کچھ فاصلہ تک پھسلتا ہوا نظر آیا۔ اس واقعہ کے بعد ایئرپورٹ پر ہلچل مچ گئی۔ اطلاع ملتے ہی ایئرپورٹ کا عملہ موقع پر پہنچا اور طیارہ میں موجود مسافروں کو بحفاظت باہر نکال لیا۔
Published: undefined
اس حادثہ کی خبر ملتے ہی ہنگامی رسپانس ٹیمیں اور ہوائی اڈے کے حکام موقع پر پہنچ گئے۔ ٹیموں نے علاقہ کو محفوظ بنایا اور طیارے میں سوار مسافروں کی سلامتی کو یقینی بنایا۔ اس کے بعد تمام مسافروں کو بحفاظت طیارے سے اتار کر ویٹنگ روم میں منتقل کر دیا گیا۔ حادثہ والے مقام سے سامنے آنے والی تصاویر میں طیارے کا ٹوٹا ہوا اگلا پہیہ رنوے پر پڑا ہوا نظر آ رہا ہے۔
Published: undefined
فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ کے مطابق فلائٹ IX-938 حیدرآباد سے اپنے مقررہ وقت صبح 6 بج کر 20 منٹ کے بجائے 6 بج کر 42 منٹ پر روانہ ہوئی تھی اور مقامی وقت کے مطابق صبح 11 بج کر 40 منٹ پر پھوکیت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اتری۔ تقریباً 11 بج کر 55 منٹ پر حکام نے تصدیق کی کہ طیارے کی ہارڈ لینڈنگ کے باعث اگلے لینڈنگ گیئر کو نقصان پہنچا ہے۔
Published: undefined
ایئر انڈیا ایکسپریس کے ترجمان نے اس تعلق سے بتایا کہ عملہ نے تمام معیاری سیکورٹی پروٹوکول پر عمل کیا اور مسافروں کو بحفاظت طیارہ سے باہر نکال لیا گیا۔ انہوں نے مسافروں، پھوکیت ایئرپورٹ انتظامیہ اور متعلقہ ایجنسیوں کے تعاون پر شکریہ بھی ادا کیا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: پریس ریلیز