خبریں

پرواز سے عین قبل دبئی جانے والے طیارہ سے 54 مسافروں کو لکھنؤ ایئرپورٹ پر اتارا گیا

مسافر سعودی ایئر لائنس کی پرواز نمبر ایس وی 893 میں سوار تھے، جو لکھنؤ سے جدہ کے لیے پرواز بھرتی ہے۔ ان مسافروں کو دبئی جانا تھا، لیکن سعودی عرب سے دبئی جانے والی اگلی پرواز منسوخ ہو گئی تھی۔

سعودی ایئر لائنس، تصویر آئی اے این ایس
سعودی ایئر لائنس، تصویر آئی اے این ایس 

مغربی ایشیا میں کشیدہ صورتحال کے باعث ہندوستان میں فضائی خدمات متاثر ہو رہی ہیں۔ اسی سلسلے میں اتوار (12 اپریل) کو لکھنؤ ایئرپورٹ پر ایک طیارہ سے 54 مسافروں کو اتار دیا گیا۔ یہ مسافر سعودی ایئر لائنس کی پرواز نمبر ایس وی 893 میں سوار تھے، جو لکھنؤ سے جدہ کے لیے پرواز بھرتی ہے۔ ذرائع کے مطابق ان مسافروں کو دبئی جانا تھا، لیکن سعودی عرب سے دبئی جانے والی اگلی پرواز منسوخ ہو گئی تھی۔ اس وجہ سے مسافروں کو لکھنؤ میں ہی اتارنا پڑا۔

Published: undefined

ایئرپورٹ سے منسلک ذرائع نے بتایا کہ سعودی عرب سے دبئی جانے والی پرواز منسوخ ہونے کی وجہ سے مسافروں کو طیارے سے اتارا گیا۔ یہی نہیں، ریفنڈ سے متعلق معلومات نہ ملنے پر مسافر مایوس نظر آئے۔ اس سے قبل لکھنؤ ایئرپورٹ پر دبئی سے کاٹھمنڈو جا رہی ایک بین الاقوامی پرواز کی ایمرجنسی لینڈنگ کرائی گئی۔ ایئرپورٹ ذرائع کے مطابق طیارے میں ایندھن کم ہونے کی وجہ سے یہ ایمرجنسی فیصلہ لیا گیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق ’فلائی دبئی‘ کی پرواز نمبر ایف زیڈ 1133 نے شام 8:22 بجے لکھنؤ ایئرپورٹ پر بحفاظت ہنگامی لینڈنگ کی۔ اس طیارے میں کل 154 مسافر سوار تھے۔

Published: undefined

واضح رہے کہ لکھنؤ ایئرپورٹ پر حالیہ دنوں میں اس طرح کے کئی واقعات پیش آئے ہیں۔ 31 مارچ کو دہلی جا رہی ایئر انڈیا ایکسپریس کی ایک پرواز کو دھوئیں کی وارننگ ملنے کے بعد لکھنؤ میں اتارنا پڑا تھا۔ پائلٹ نے صورتحال کی سنگینی بتانے کے لیے ’پین-پین‘ کال بھی کی تھی۔ اس کے علاوہ پیر (30 مارچ) کی شام کو باگڈوگرا سے دہلی جانے والی ایئر انڈیا ایکسپریس کی ایک اور پرواز کی ہنگامی لینڈنگ ہوئی تھی۔ اس طیارے کے الیکٹرانک سسٹم والے حصے (ایویونکس بے) میں دھواں دیکھا گیا تھا۔ اس وقت طیارے میں 148 مسافر اور عملے کے 6 اراکین سوار تھے۔ پائلٹ نے حفاظت کے پیش نظر فوری لینڈنگ کا فیصلہ کیا تھا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined