خبریں

روس میں بغیر مرضی کے جنگ لڑ رہے 26 ہندوستانی، سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو بھیجا نوٹس

عرضی میں متاثرہ کنبوں کی طرف سے پیش دلیلوں پر وزارت خارجہ کی عدم فعالیت کو ظاہر کرنے کے ساتھ ساتھ روس سے 26 ہندوستان کی محفوظ واپسی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ / آئی اے این ایس</p></div>

سپریم کورٹ / آئی اے این ایس

 

سپریم کورٹ نے روس میں پھنسے ہندوستانیوں سے متعلق داخل 26 رٹ پٹیشن پر مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اس معاملہ میں مرکزی وزارت خارجہ سمیت تمام ریاستی حکومتوں کو بھی نوٹس جاری کیا ہے۔ جواب داخل کرنے کے لیے انھیں 4 ہفتوں کا وقت دیا گیا ہے۔ یہ تمام ہندوستانی اسٹوڈنٹ یا سیاحتی ویزا پر روس گئے تھے۔ عرضی میں ان ہندوستانی شہریوں کی مبینہ حوالگی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے، جو اسٹوڈنٹ یا سیاحتی ویزا پر روس گئے تھے اور اب مبینہ طور پر یوکرین کے خلاف جنگ میں حصہ لینے پر مجبور کیے جا رہے ہیں۔

Published: undefined

عرضی میں متاثرہ افراد کے اہل خانہ کی جانب سے پیش کی گئی دلیلوں پر وزارت خارجہ کی عدم فعالیت کو ظاہر کرنے کے ساتھ ساتھ روس سے 26 ہندوستانیوں کی محفوظ واپسی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ عرضی گزار کے وکیل نے اس معاملہ میں عدالت کو بتایا کہ ریاست کی طرف سے مسلسل اور مستقل عدم فعالی برقرار ہے۔ مشکل میں پھنسے ہندوستانی نے عرضی میں کہا ہے کہ ہم روس میں پھنسے ہوئے ہیں، ہم اپنی مرضی کے خلاف ایک غیر ملکی ریاست کے لیے یوکرین کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔

Published: undefined

اس تعلق سے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ ہم اس معاملے کی جانچ کریں گے۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ سالیسیٹر جنرل نے ہدایات لینے کے لیے وقت مانگا ہے۔ ایک ہفتہ کے اندر جواب داخل کرنے کے قابل نوٹس جاری کیا جائے۔ عرضی گزار کے وکیل نے کہا کہ ہم یا تو مر چکے ہیں یا زخمی ہیں، ہم انتہائی مشکل حالات میں ہیں۔ اس کے جواب میں چیف جسٹس آف انڈیا نے کہا کہ ہم نے سالیسیٹر جنرل سے اس معاملے کو دیکھنے کی درخواست کی ہے۔

Published: undefined

داخل عرضی میں کہا گیا ہے کہ اہل خانہ کو موصول ہونے والے آخری پیغامات ستمبر اور اکتوبر 2025 کے درمیان کے ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ کوپیانسک، سیلیدووے، ماکئیفکا اور چیلیابنسک جیسے فعال جنگی علاقوں میں یا ان کے آس پاس تعینات تھے۔ انہوں نے اپنی سلامتی کے حوالے سے خوف کا اظہار کیا تھا اور بتایا تھا کہ وہ ان علاقوں سے نکلنے سے قاصر ہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined