
تصویر آئی وائی سی
نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی کی سالگرہ کے موقع پر انڈین یوتھ کانگریس نے ملک میں بے روزگاری اور روزگار کے محدود مواقع کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے ’میری ڈگری کا کیا؟‘ مہم شروع کی ہے۔ تنظیم نے ملک بھر میں خالی پڑے منظور شدہ سرکاری عہدوں کو پُر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
یوتھ کانگریس کے رہنماؤں نے اس مہم کے لیے ایک ویب سائٹ بھی شروع کی۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ بڑی تعداد میں تعلیم یافتہ اور اہل نوجوان موجود ہونے کے باوجود سرکاری محکموں میں منظور شدہ عہدے خالی پڑے ہیں، جس سے نوجوانوں میں روزگار کے حوالے سے مایوسی پیدا ہو رہی ہے۔
دہلی پردیش یوتھ کانگریس کے صدر اکشے لاکڑا نے دعویٰ کیا کہ ملک بھر کے سرکاری شعبے میں 50 لاکھ سے زیادہ منظور شدہ عہدے خالی ہیں۔ ان کے مطابق ان عہدوں پر تقرری سے نہ صرف نوجوانوں کو روزگار کے مواقع مل سکتے ہیں بلکہ اسکولوں، اسپتالوں اور دیگر عوامی خدمات میں بھی بہتری آ سکتی ہے۔
لاکڑا نے کہا کہ عام خاندان اپنے بچوں کی تعلیم پر کئی برس تک خرچ کرتے ہیں اور یہ امید رکھتے ہیں کہ ان کی ڈگری انہیں روزگار اور معاشی تحفظ کا موقع فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بڑی تعداد میں اہل نوجوانوں کی موجودگی کے باوجود سرکاری عہدوں کا خالی رہنا حکومت سے جواب طلب کرتا ہے۔
یوتھ کانگریس نے حکومت کے سامنے پانچ مطالبات بھی رکھے ہیں۔ تنظیم کا مطالبہ ہے کہ ہر خالی سرکاری عہدے کے لیے وقت مقرر کرکے بھرتی کا کیلنڈر جاری کیا جائے اور بھرتی کا امتحان ہونے سے لے کر تقرری تک پورے عمل کے لیے واضح مدت مقرر کی جائے۔
تنظیم نے شفاف اور غیر جانب دار بھرتیوں کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر قانون بنانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ ہر سرکاری بھرتی کے فارم کی فیس ایک روپے مقرر کرنے اور سرکاری ملازمتوں میں کنٹریکٹ نظام ختم کرنے کی مانگ بھی شامل ہے۔
لاکڑا نے کہا کہ یوتھ کانگریس اس مہم کو صرف ایک دن تک محدود نہیں رکھے گی، بلکہ اگلے ایک سال تک ملک بھر میں ’میری ڈگری کا کیا؟‘ مہم چلائی جائے گی۔ اس دوران نوجوانوں سے متعلق مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے ’نوجوانی مارچ‘، ’نوکری مارچ‘ اور ’ڈگری مارچ‘ سمیت مختلف پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔
تنظیم نے کہا کہ مہم کا مقصد نوجوانوں کے روزگار سے متعلق مسائل کو عوامی بحث کا حصہ بنانا اور سرکاری شعبے میں خالی عہدوں پر مقررہ مدت کے اندر بھرتی کے لیے حکومت پر زور دینا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔