
کانگریس صدر کھڑگے، تصویر ’ایکس‘ @INCIndia
راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے نوجوانوں کی تحریک کے دوران پولیس کارروائی اور اس کے بعد مظاہرین کے خلاف درج کیے جا رہے مقدمات کو پیش نظر رکھتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی حکومت پر سخت حملہ کیا ہے۔ کھڑگے نے وزیر اعظم مودی کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نوجوانوں کو دبانے کے لیے لاٹھی، ڈنڈے اور پیلیٹ گن کے استعمال کے بعد اب ان کے خلاف جس طرح انتقامی کارروائی کر رہی ہے، وہ قابل قبول نہیں ہے۔
ملکارجن کھڑگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری تازہ پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’نریندر مودی جی، 10 دن پہلے، آپ کی حکومت نے نوجوانوں کا لاٹھی، ڈنڈے اور پیلیٹ گن سے استحصال کیا۔ جب طلبا نے اپنی تحریک واپس لے لی تو اب حکومت بدلے کی نیت سے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کروا رہی ہے اور انہیں زبردستی حراست میں لے رہی ہے۔‘‘ کھڑگے نے وزیر اعظم سے کہا کہ نوجوانوں نے اس شرط پر اپنی تحریک واپس لی تھی کہ ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی، لیکن اب آپ کی حکومت اپنے ہی وعدے سے پلٹ گئی ہے۔ کانگریس صدر نے مزید الزام عائد کیا کہ حکومت نوجوانوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بلاک کروا رہی ہے اور لڑکیوں کو ’ڈوکس‘ کیا جا رہا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ڈوکسنگ سے مراد کسی شخص کی ذاتی معلومات کو اس کی اجازت کے بغیر عوامی طور پر ظاہر کرنا ہے۔
ملکارجن کھڑگے نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ امت شاہ میں اتنا تکبر ہے کہ انہوں نے پارلیمنٹ کے ایوان میں قدم تک نہیں رکھا اور جوابدہی سے متعلق بیان دینے سے فرار اختیار کرتے رہے۔ کھڑگے نے اپنی پوسٹ میں حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اب ’فیس سیونگ‘ اور ’امیج پروٹیکشن‘ کے حربے نہیں چلیں گے، کیونکہ نوجوان حکومت کی حقیقت جان چکے ہیں۔ وہ پی ایم مودی کو مخاطب کرتے ہوئے یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’تھوڑی سی بھی شرم بچی ہے تو امت شاہ کا استعفیٰ لیجیے۔‘‘
کھڑگے کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیٹ پیپر لیک اور امتحان میں بے ضابطگیوں کے خلاف ملک بھر میں نوجوانوں کی تحریک کے دوران پولیس کارروائی کو لے کر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی کشیدگی برقرار ہے۔ اپوزیشن پارٹیاں طلبا کے خلاف پولیس کارروائی، مبینہ گرفتاریوں، ایف آئی آر اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے خلاف اقدامات پر حکومت سے جواب طلب کر رہی ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔