
عرب و عجم کے مشہور عالم اور خطیب مولانا سلیمان حسینی ندوی کا 29 جون کو علی الصبح لکھنؤ میں انتقال ہو گیا۔ یہ خبر جیسے ہی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعہ لوگوں تک پہنچی، رنج و الم کا ماحول پیدا ہو گیا۔ خاندانی ذرائع کے حوالہ سے سامنے آئی کچھ رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ وہ کچھ عرصہ سے علیل تھے اور آج 72 سال کی عمر دنیا میں گزارنے کے بعد وہ خالق حقیقی سے جا ملے۔
مولانا سلمان حسینی ندوی کے انتقال کی خبر پھیلتے ہی ہندوستان اور بیرون ہندوستان کے علمی، دینی اور سماجی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ مختلف دینی اداروں، علما، دانشوروں اور سیاسی شخصیات، خصوصاً مرحوم کے شاگردوں کی جانب سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ سامنے آ رہی جانکاری کے مطابق ان کی نمازِ جنازہ آج بعد نمازِ عصر ملیح آباد میں ادا کی جائے گی۔
قابل ذکر ہے کہ مولانا سید سلمان حسینی ندوی بن مولانا سید محمد طاہر حسینی کی ولادت 1954ء میں اتر پردیش کے تاریخی شہر لکھنؤ میں ہوئی۔ ان کا تعلق منصور پور، مظفر نگر کے سادات بارہہ سے ہے۔ انھوں نے 1976ء میں دار العلوم ندوۃ العلماء سے حدیث میں فضیلت کے بعد ریاض کے جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ سے 1980ء میں ایم اے کیا۔ سید سلمان حسینی نے علم و فضل اور زور خطابت سے پوری دنیا میں اپنا ایک الگ مقام بنایا۔ انھوں نے ابتدائی دور میں ہندوستان کے شہروں اور دیہاتوں میں خوب دعوتی دورے کیے، اور پھر عالمی سطح پر دعوتی دورہ کر اسلامی تعلیمات کو عام کیا۔
مولانا سلمان ندوی کی اسانید حدیث پر ان کے ایک شاگرد مولانا محمد اکرم ندوی نے ایک کتاب ’العقد اللجيني في أسانيد المحدث الشريف سلمان الحسيني‘ لکھی ہے جو دارالغرب الإسلامي، بيروت سے 2004ء میں شائع ہوئی۔ بتایا جاتا ہے کہ مولانا سلمان ندوی ہندوستان کے پہلے ایسے عالم ہیں جنھوں نے سعودی عرب کی اسلامی فکر کے خلاف پالیسیوں اور اس کے مغربی فکر کو اپنانے پر کهل کر تنقید کی اور اسلامی قضیوں کے تئیں اس کی سرد مہری و منافقت کو واشگاف کیا۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر سوشل میڈیا