
خواتین ووٹر علامتی تصویر
جھارکھنڈ میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں خواتین نے گھرکی چہار دیواریوں سے باہر نکل کرسیاسی میدان میں بھی اپنا لوہا منوایا ہے۔ کئی خواتین نے مرد سیاستدانوں کو شکست دے کراقتدار تک پہنچنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ الیکشن جیتنے والی کئی خواتین ایسی ہیں جنہوں نے پہلی بارانتخابی میدان میں قسمت آزمائی کی اور شاندار کامیابی حاصل کی۔
Published: undefined
ریاست کے بلدیاتی انتخابات میں خواتین کی کارکردگی ہر طرف موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ کامیاب ہونے والی خواتین میں روشنی کھلکھو رانچی کی میئر بنی ہیں، جب کہ سدھا گپتا نے مانگو فتح کیا ہے۔ کوئلہ راجدھانی دھنباد سمیت پوری ریاست میں وارڈ کونسلروں سے لے کر چرکنڈا نگر پنچایت تک خواتین کی جیت نے مافیا پر لگانے کی امیدیں بڑھا دی ہیں۔ خواتین کی طاقت کا یہ مظاہرہ پورے ملک کے لیے مثال بتایا جارہا ہے۔
Published: undefined
جھارکھنڈ کے 48 بلدیاتی اداروں میں 26-27 فروری 2026 کو ووٹوں کی گنتی کے دوران خواتین نے کئی حلقوں میں کامیابی حاصل کی۔ تاریخی طور پر رانچی میونسپل کارپوریشن میں خاتون میئر بنیں راما کھلکھو (2008)، آشا لکڑا (2018 میں مسلسل دوسری بار)، دھنباد ضلع میں چرکنڈا میونسپل کونسل کے وارڈ 12 سے بلٹی دیوی (31 ووٹ)، وارڈ 8 سے نیلم دیوی (9 ووٹوں سے)، وارڈ 2 سے بھارتی کماری، اور وارڈ 17 سے پرتیما باوری جیسی خواتین نے کامیابی حاصل کی۔
Published: undefined
کوئلہ راجدھانی کہلانے والے دھنباد میں دھنباد میونسپل کارپوریشن اور چرکنڈا نگر پنچایت کے کئی وارڈوں میں خواتین نے جیت درج کی جیسے وارڈ 21 سے ارمیلا منڈل اور جھریا وارڈ 36 سے سمن اگروال۔ ان فتوحات کو مقامی طور پر مافیا عناصر کی روک تھام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ خواتین کونسلر بن کر صفائی، پانی کی فراہمی اور حفاظت پر توجہ دے رہی ہیں۔ سمڈیگا جیسے اضلاع میں بھی سنیتا دیوی (وارڈ 6) اور بیجینتی مالا (وارڈ 7) نے بھی کامیابی حاصل کی۔
Published: undefined
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو حالیہ انتخابات میں پورے جھارکھنڈ میں خواتین کو بااختیار بنانے کا ایک نیا باب لکھا گیا ہے۔ رانچی کے 53 وارڈوں میں سے 32 پر خواتین کامیاب ہوئی ہیں۔ ان نتائج میں اقلیتی اور قبائلی خواتین نے نمایاں کامیابی حاصل کی۔ یہ انتخابات پارٹی بنیاد پر لڑے گئے جن میں خواتین کی تعداد جے ایم ایم ، بی جے پی اور علاقائی پارٹیوں سے خواتین آگے تھیں۔ ووٹوں کی گنتی پرامن رہی، اگرچہ کچھ مقامات پر ہنگامے کی خبریں ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined