
گجرات ہائی کورٹ / تصویر: آئی اے این ایس
گجرات کے وڈودرا سے ایک حیران کر دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے۔ یہاں کی باشندہ 66 سالہ ایک خاتون نے ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی ہے، جس میں شادی کے بعد اختیار کیا گیا مسلم نام چھوڑ کر دوبارہ اپنے عیسائی نام کو اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔ خاتون کا کہنا ہے کہ مسلم نام ہونے کی وجہ سے انہیں وڈودرا میں غیر مسلم علاقوں میں کرایہ پر مکان لینے میں کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ 21 جولائی کو جسٹس نرجر دیسائی کی بنچ نے عرضی پر سماعت کے بعد ریاستی حکومت اور متعلقہ افسران کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کیا ہے، اور پوچھا ہے کہ نام تبدیلی کی خاتون کی درخواست سرکاری گزٹ میں کیوں شائع نہیں کی گئی؟ دراصل درخواست گزار جو مرکزی حکومت کی ریٹائرڈ ملازمہ اور بیوہ ہیں، ایک عیسائی خاندان میں پیدا ہوئی تھیں، لیکن ایک مسلمان مرد سے شادی کے بعد انہوں نے مسلم شناخت اختیار کر لی اور اپنا نام بھی تبدیل کر لیا۔
2021 میں خاتون کے شوہر کا انتقال ہو گیا، جس کے بعد انہوں نے سسرال چھوڑ دی اور اب وہ اپنے میکے اور پرانے خاندانی رشتوں سے دوبارہ وابستہ ہونے کی کوشش کر رہی ہیں۔ خاتون کا کہنا ہے کہ ان کے مسلم نام کی وجہ سے انہیں وڈودرا کے غیر مسلم علاقوں میں گھر نہیں مل رہا، جس کی وجہ سے انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کے وکیل، ایڈووکیٹ رشبھ شاہ کا کہنا ہے کہ حالات نے خاتون کو اپنا میکے والا نام دوبارہ اختیار کرنے پر آمادہ کیا، جو ان کی عیسائی شناخت کی نمائندگی کرتا ہے۔ وکیل نے کہا کہ خاتون اپنی عیسائی شناخت ظاہر کرنے والا میڈن نیم دوبارہ رکھنا چاہتی ہیں۔ وکیل نے بتایا کہ افسران کے ذریعہ سرکاری گزٹ میں نام کی تبدیلی کی درخواست شائع نہیں کرنے کے بعد خاتون نے ہائی کورٹ کا رخ کیا۔ افسران نے خاتون کے نام تبدیل کرنے کی عرضی یہ کہہ کر خارج کر دی تھی کہ طلاق کا حکم نہیں ہونے کی وجہ سے وہ اپنا نام تبدیل نہیں کر سکتی ہے اور اپنے والد کا نام اور میکے کا سرنیم بھی اپنے نام میں نہیں جوڑ سکتی۔
عرضی میں خاتون نے وضاحت کی ہے کہ نام تبدیل کرنے کا مقصد سول یا مجرمانہ کردار سے بچنا نہیں ہے، بلکہ مکمل طور پر سماجی صورتحال کی وجہ سے یہ نام تبدیل کرنا پڑ رہا ہے۔ خاتون نے بتایا کہ وہ شوہر کا گھر چھوڑ چکی ہیں اور ان کی جائیداد پر بھی کوئی حق نہیں رہا ہے۔ سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے درخواست کی بنیادوں سے متعلق مزید وضاحت طلب کی، جس کے بعد ان کے وکیل نے ایک اضافی حلف نامہ پیش کیا، جس میں مجوزہ تبدیلی کی وجوہات کی تفصیل بیان کی گئی اور بتایا گیا کہ انہیں غیر مسلم علاقے میں رہائش حاصل کرنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ حلف نامے پر غور کرنے کے بعد جسٹس دیسائی نے کہا کہ درخواست گزار کی جانب سے بیان کی گئیں وجوہات سماجی نوعیت کی ہیں۔ ریاستی حکومت، سرکاری پرنٹنگ اینڈ اسٹیشنری ڈائریکٹوریٹ اور راجکوٹ میں واقع سرکاری پریس اینڈ اسٹیشنری کو نوٹس جاری کرتے ہوئے عدالت نے ان سے 27 اگست تک جواب طلب کیا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔