قومی خبریں

’وکرم-1‘ کی کامیاب پرواز کے ساتھ ہندوستان کے پرائیویٹ خلائی سیکٹر نے رقم کی نئی تاریخ

’وکرم-1‘ کا نام ہندوستانی خلائی پروگرام کے بانی ڈاکٹر وکرم سارابھائی کے احترام میں رکھا گیا ہے۔ یہ تقریباً 23 میٹر بلند اور 1.7 میٹر قطر والا 3 مرحلوں کا راکٹ ہے۔

<div class="paragraphs"><p>وکرم-1، تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/narendramodi">@narendramodi</a></p></div>

وکرم-1، تصویر ’ایکس‘ @narendramodi

 

ہندوستان کا پہلا نجی طور پر تیار کردہ آربیٹل راکٹ ’وکرم-1‘ کامیابی کے ساتھ خلا میں روانہ ہو گیا۔ اس کے ساتھ ہی پرائیویٹ خلائی سیکٹر نے ایک نئی تاریخ رقم کر دی، جو ہندوستان کے روشن مستقبل کا غماز بھی ہے۔ منصوبہ کے مطابق 18 جولائی کی صبح 11.30 بجے سری ہری کوٹا سے پرواز بھری۔ راکٹ کو پہلے مرحلے میں کامیابی سے الگ کیا گیا، جس کے بعد دوسرے مرحلے کا انجن بھی کامیابی سے روشن ہو گیا۔ وکرم-1 نے 120 کلومیٹر کی بلندی عبور کرتے ہوئے خلا میں داخلہ بھی حاصل کر لیا ہے۔ اس طرح اسکائی روٹ ایئرو اسپیس کا ’وکرم-1‘ ہندوستان کا پہلا نجی طور پر تیار کردہ آربیٹل راکٹ بن گیا۔ یہ مشن صرف ایک راکٹ لانچ نہیں، بلکہ ہندوستان کے پرائیویٹ خلائی سیکٹر کے لیے ایک نئے دور کی ابتدا تصور کیا جا رہا ہے۔

’وکرم-1‘ کیا ہے؟

’وکرم-1‘ کا نام ہندوستانی خلائی پروگرام کے بانی ڈاکٹر وکرم سارابھائی کے احترام میں رکھا گیا ہے۔ یہ تقریباً 23 میٹر بلند اور 1.7 میٹر قطر والا 3 مرحلوں کا راکٹ ہے۔ اس میں 300 کلوگرام تک کے پے لوڈ کو لو ارتھ آربٹ (ایل ای او) میں قائم کرنے کی صلاحیت ہے۔ یہ ہندوستان کا پہلا نجی آربیٹل لانچ وہیکل ہے۔

خاص بات یہ ہے کہ اب تک ہندوستان میں آربیٹل راکٹ تیار کرنے اور لانچ کرنے کی ذمہ داری بنیادی طور پر اِسرو کے پاس رہی ہے۔ ’وکرم-1‘ کی کامیاب پرواز کے بعد ’اسکائی روٹ‘ ہندوستان کی پہلی پرائیویٹ کمپنی بن گئی ہے جس نے آربیٹل راکٹ لانچ کیا ہے۔ ساتھ ہی ’اسکائی روٹ‘ دنیا کی ان منتخب پرائیویٹ اسپیس کمپنیوں میں شامل ہو گئی جنہوں نے یہ کامیابی حاصل کی ہے۔ پوری دنیا میں بہت کم پرائیویٹ کمپنیاں آربیٹل لانچ میں کامیاب ہو سکی ہیں۔

مدار تک پہنچنا اتنا مشکل کیوں؟

دراصل کسی بھی راکٹ کو مدار تک پہنچانے کے لیے کئی راکٹ موٹروں کا درست وقت پر اگنیشن، اسٹیج سیپریشن، درست نیویگیشن، تقریباً 28,000 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار حاصل کرنا اور سیٹلائٹ کو درست مدار میں قائم کرنا جیسی سینکڑوں پیچیدہ کارروائیاں ایک ساتھ کامیاب ہونی چاہئیں۔ اسی وجہ سے اسے انجینئرنگ کی مشکل ترین کامیابیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

’اسکائی روٹ‘ کا سفر

’اسکائی روٹ ایئرو اسپیس‘ کی بنیاد 2018 میں اِسرو کے سابق سائنس دانوں پون چندنا اور ناگا بھارت ڈکا نے رکھی تھی۔ آج کمپنی 100 ملین ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری حاصل کر چکی ہے۔ اس کی قدر تقریباً 1.1 بلین ڈالر ہے۔ کمپنی حیدرآباد میں جدید راکٹ مینوفیکچرنگ سہولتیں قائم کر چکی ہے۔ ’اسکائی روٹ‘ نے نومبر 2022 میں وکرم-ایس نامی سب آربیٹل راکٹ لانچ کیا تھا۔ ’پرارمبھ‘ نام کے اس مشن نے ’اسکائی روٹ‘ کو ہندوستان کی پہلی پرائیویٹ راکٹ لانچ کرنے والی کمپنی بنا دیا تھا۔ اب ’وکرم-1‘ اس سے کہیں زیادہ چیلنجنگ مشن ہے، کیونکہ اس کا ہدف زمین کے مدار تک پہنچنا ہے۔

اِسرو کا کردار بھی اہم

’اسکائی روٹ‘ کے مطابق اِسرو نے اس پورے سفر میں اہم تعاون دیا۔ جانچ کی سہولتیں فراہم کیں، لانچ کا بنیادی ڈھانچہ دیا، تکنیکی تعاون حاصل ہوا۔ اِسرو کے برسوں میں تیار کیے گئے 400 سے زیادہ پرائیویٹ سپلائرز کے نیٹورک کا فائدہ ملا، یعنی یہ کامیابی اِسرو اور پرائیویٹ سیکٹر کے تعاون کی بہترین مثال ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔