قومی خبریں

عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت ملے گی یا نہیں؟ سپریم کورٹ 5 جنوری کو سنائے گا فیصلہ

عمر خالد اور شرجیل نے سپریم کورٹ میں دہلی ہائی کورٹ کے 2 ستمبر 2025 کے اس حکم کو چیلنج کیا ہے، جس میں عدالت نے فروری 2020 کو تشدد میں بڑی سازش سے متعلق معاملہ میں انہیں ضمانت دینے سے انکار کر دیا تھا۔

<div class="paragraphs"><p>عمر خالد اور شرجیل امام، تصویر سوشل میڈیا</p></div>

عمر خالد اور شرجیل امام، تصویر سوشل میڈیا

 

عمر خالد اور شرجیل امام سمیت 2020 دہلی فسادات کے 7 ملزمان کی ضمانت عرضیوں پر سپریم کورٹ پیر (5 جنوری) کو اپنا فیصلہ سنائے گا۔ ان ملزمان نے 5 سال سے جیل میں بند ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے ضمانت کا مطالبہ کیا ہے۔ دہلی پولیس نے ان کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ دہلی میں ہونے والے فسادات ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ تھے اور ان کا منصوبہ تشدد کا دائرہ پورے ملک تک پھیلانا تھا۔

Published: undefined

سپریم کورٹ کے جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجاریا کی بنچ اس معاملہ میں 5 جنوری کو فیصلہ سنائے گی۔ اس معاملہ میں ملزم عمر خالد، شرجیل امام، گلفشاں فاطمہ، میران حیدر، شفاء الرحمٰن، محمد سلیم خان اور شاداب احمد کے خلاف غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت مقدمہ درج ہے۔ واضح رہے کہ عرضی گزار نے سپریم کورٹ میں دہلی ہائی کورٹ کے 2 ستمبر 2025 کے اس حکم کو چیلنج کیا ہے، جس میں عدالت نے فروری 2020 کو تشدد میں بڑی سازش سے متعلق معاملہ میں انہیں ضمانت دینے سے انکار کر دیا تھا۔

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ جیل میں قید عمر خالد کا معاملہ اب بین الاقوامی سطح پر پہنچ چکا ہے۔ حال ہی میں امریکہ کے شہر نیویارک کے میئر کے عہدہ پر فائز ہونے والے ظہران ممدانی نے بھی عمر خالد کا معاملہ اٹھایا ہے۔ دراصل انہوں نے عمر خالد کے نام ایک ذاتی، ہاتھ سے لکھا ہوا خط تحریر کیا ہے، جو گزشتہ دنوں منظر عام پر آیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ظہران ممدانی نے اپنے خط میں لکھا کہ وہ عمر خالد کے ان خیالات کو اکثر یاد کرتے ہیں جو انہوں نے قید کے دوران تلخی اور حوصلے کے بارے میں تحریر کیے تھے۔ خط میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ خالد کے والدین سے ملاقات انہیں خوشگوار محسوس ہوئی اور یہ کہ ’ہم سب آپ کو یاد کر رہے ہیں۔‘ اس جملے کو انسانی ہمدردی اور یکجہتی کے پیغام کے طور پر خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined