قومی خبریں

سکھدیو سنگھ گوگامیڈی کی اہلیہ نے تحریری یقین دہانی کے بعد ختم کیا  احتجاج

سکھدیو سنگھ گوگامیڈی قتل کیس میں مطلوب افراد کو 72 گھنٹے کے اندر گرفتار کرنے کی تحریری یقین دہانی ملنے کے بعد اہلیہ شیلا شیخاوت نے احتجاج ختم کر دیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر آئی اے این ایس</p></div>

تصویر آئی اے این ایس

 

کرنی سینا کے صدر سکھ دیو سنگھ گوگامیڈی کے قتل کے خلاف جاری احتجاج ختم کر دیا گیا ہے۔ اہلیہ نے تحریری یقین دہانی کے بعد احتجاج ختم کر دیا ہے کہ قتل کیس میں مطلوب افراد کو 72 گھنٹے میں گرفتار کر لیا جائے گا۔نیوز پورٹل ’اے بی پی ‘ پر شائع خبر کے مطابق  اب ہڑتال ختم ہونے کے بعد میت کو صبح 7 بجے سے جے پور کے راجپوت بھون میں آخری درشن کے لیے رکھا جائے گا۔ سکھ دیو سنگھ کے آخری درشن کا پروگرام تقریباً 2 گھنٹے تک جاری رہے گا۔ پھر اسے بذریعہ سڑک سکھدیو  کے آبائی گاؤں گوگامیڈی لے جایا جائے گا۔ راستے میں مختلف مقامات پر لوگ خراج عقیدت پیش کریں گے۔

Published: undefined

تحریری یقین دہانی پر سکھ دیو سنگھ کی اہلیہ شیلا شیخاوت نے مائیک ہاتھ میں لیا اور کہا کہ آپ کی جدوجہد رنگ لائی۔ ہمیں ابھی اعلیٰ حکام نے بتایا ہے کہ شیام نگر پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او اور دیگر پولیس اہلکاروں کو فوری اثر سے معطل کر دیا گیا ہے۔ آخری درشن کل گوگامیڈی میں ہوگا۔ 10 دسمبر کو دہلی کے رام لیلا میدان میں خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔

Published: undefined

واضح رہے کہ منگل کو کرنی سینا کے صدر سکھدیو سنگھ گوگامیڈی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ لارنس بشنوئی گینگ نے قتل کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ پولیس نے ہریانہ سے دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔آپ کو بتاتے چلیں کہ پولس کمشنر بیجو جارج کی قیادت میں خاندان کی جانب سے بدھ کو مقامی ایم ایل اے اور تمام سماج کے لیڈروں کی ایک میٹنگ ہوئی جس میں پوسٹ مارٹم کرانے پر اتفاق کیا گیا۔

Published: undefined

پنجاب پولیس کے مطابق، فروری میں، پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) کے دفتر نے راجستھان پولیس کو ایک خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ لارنس بشنوئی گینگ کے بدنام زمانہ گینگسٹر سمپت نہرا نے "راجستھان میں مذہبی طور پر متاثر فسادات بھڑکانے کے لیے گوگامیڈی کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا۔" راجستھان پولیس نے کہا تھا کہ گوگامیڈی کے قتل میں ایک ملزم ہریانہ اور دوسرا راجستھان سے ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined