قومی خبریں

موبائل اور انٹرنیٹ کا استعمال کیوں نہیں کرتے این ایس اے چیف اجیت ڈووال؟

ڈووال نے کہا کہ میں اپنا کام بغیر انٹرنیٹ اور فون کے انجام دیتا ہوں۔ کمیونکیشن کے کئی طریقے ہیں۔ فون کا استعمال صرف فیملی اور دوسرے ممالک سے بات کرنے کے لیے کرتا ہوں، وہ بھی بہت ضروری ہونے پر۔

اجیت ڈووال، تصویر آئی اے این ایس
اجیت ڈووال، تصویر آئی اے این ایس 

موجودہ دورہ میں انٹرنیٹ اور موبائل کے بغیر زندگی کا تصور کرنا محال ہے۔ ایسے حالات میں بھی ہندوستان کے قومی سیکورٹی ایڈوائزر (این ایس اے) اجیت ڈووال موبائل فون اور انٹرنیٹ کا استعمال نہیں کرتے۔ انہوں نے خود اس بارے میں جانکاری دی۔ وہ ’وکست بھارت ینگ لیڈرز ڈائیلاگ 2026‘ کے افتتاحی پروگرام میں شامل ہوئے تھے۔ اس دوران انہوں نے سیشن میں پہنچے نوجوان شرکاء سے خطاب کیا۔

Published: undefined

جب سیشن کے دوران سوال و جواب کا مرحلہ چل رہا تھا تو ان سے موبائل فون رکھنے اور انٹرنیٹ کے استعمال نہ کرنے کے بارے میں سوال پوچھا گیا۔ جواب میں انہوں نے کہا ’’میں فون کا بھی استعمال نہیں کرتا۔ سوائے فیملی اور دوسرے ممالک کے لوگوں سے بات کرنے کے، وہ بھی تب جب بات کرنا بے حد ضروری ہو۔‘‘ اجیت ڈووال کا کہنا ہے کہ ’’میں اپنا کام موبائل اور انٹرنیٹ کا استعمال کیے بغیر ہی انجام دیتا ہوں۔ کمیونکیشن کے اور بھی کئی طریقے ہیں۔ کچھ اضافی طریقے بھی اپنانے پڑتے ہیں، جس کے بارے میں لوگوں کے پاس جانکاری کم ہوتی ہے۔‘‘

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ اجیت ڈووال ہندوستان کے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر عہدہ پر رہنے والے پانچویں شخص ہیں۔ وہ کیرالہ کیڈر کے ایک ریٹائرڈ ہندوستانی پولیس افسر ہیں۔ انہوں نے دہائیوں تک انٹیلی جنس، داخلی سیکورٹی اور دہشت گردی مخالف سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی پیدائش اتراکھنڈ میں 1945 میں ہوئی تھی۔ وہ 1968 بیچ کے آئی پی ایس افسر ہیں۔ انہیں سب سے کم عمر میں ’کیرتی چکر‘ سے نوازا جا چکا ہے۔

Published: undefined

اجیت ڈووال نے اپنے کیریئر کے دوران میزورم، پنجاب اور نارتھ ایسٹ میں انتہا پسندی مخالف آپریشنز پر بڑے پیمانے پر کام کیا ہے۔ وہ ڈوکلام تعطل کو سنبھالنے اور ہندوستان کی سیکورٹی سے متعلق حکمتِ عملی طے کرنے میں شامل رہے۔ وہ 1999 میں قندھار میں آئی سی-814 طیارہ اغوا معاملہ کے دوران بات چیت کرنے والے افسران میں بھی شامل رہے۔ 1971 سے 1999 کے درمیان انہوں نے طیارہ اغوا کے کئی معاملات کو سنبھالا تھا۔ وہ کئی برس تک پاکستان میں انڈرکور ایجنٹ بھی رہے۔

Published: undefined

گزشتہ سال حکومت کی فیکٹ چیکنگ ایجنسی نے ڈووال کے نام سے ایک جعلی فیس بک اکاؤنٹ بھی ٹریک کیا تھا۔ اسی اکاؤنٹ کے ذریعہ پاکستان سے ہونے والے سائبر حملے کی وارننگ جاری کی گئی تھی۔ اس وقت پی آئی بی نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ اجیت ڈووال کا کوئی سرکاری فیس بک اکاؤنٹ نہیں ہے۔ ان کے نام اور تصویر کے ساتھ گردش میں آنے والی پوسٹس مکمل طور پر فرضی ہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined