
ممبئی: این سی پی کے ترجمان و رکن پارلیمنٹ ایڈوکیٹ مجید میمن نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے منشور پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 2014 سے مہاراشٹر میں شیوسینا بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت برسراقتدار ہے نیز ان پانچ سالوں میں انہوں نے ویرساورکر، مہاتما پھولے اور ساوتری بائی پھولے کو بھارت رتن ایوارڈ دینے کی سفارش کیوں نہیں کی؟ اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے مجید میمن نے کہا کہ عین انتخابات کے وقت ان رہنماؤں کو بھارت رتن دینے کی بھارتیہ جنتا پارٹی کو کیسے خیال آیا اس کا جواب مہاراشٹر کی عوام 21 اکتوبر کو دیں گے۔
ایڈوکیٹ مجید میمن نے یہ بھی کہا کہ انتخابی منشور میں ریاست کے ایک کروڑ بے روزگار نوجوانوں کو بی جے پی نے روزگار دستیاب کرانے کا وعدہ کیا ہے یہ بھی صرف ایک انتخابی ڈھکوسلا ہے کیونکہ۲۰۱۴؍میں جب بی جے پی برسراقتدار آئی تھی تب وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی ہر سال ایک کروڑ افراد کو روزگار دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن روزگار دینا تو دور کی بات لاکھوں افراد کو حکومت کی غلط پالیسیوں کے سبب اپنی ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑا۔
مجید میمن نے کہا کہ پورے ملک کو سنگین معاشی حالت سے گزر نا پڑ رہا ہے خود وزیر مالیات نرملا سیتا رمن کے شوہر نے حکومت کی غلط پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور ابھیجیت بینرجی (نوبل انعام یافتہ )نے بھی نوٹ بندی کے خلاف آواز اٹھائی ہے یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مرکزی حکومت تمام محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے کالا دھن روکنے کے نام پر محض دو گھنٹہ کے اندر ایک ہزار کی نوٹ پر پابندی لگا دی اور پھر اس کے بعد پورے ملک نے جو تکلیف اٹھائی ہے وہ کسی سے چھپا نہیں ہے حالات اتنے خراب ہو گئے تھے کہ جس وقت وزیر اعظم کا یہ فیصلہ آیا اس کے بعد سے ملک بھر میں لوگ کھانے کو ترس گئے نیز علاج کیلئے گئے لوگوں کو بھی بہت تکلیف آئی لیکن اس کا کیا ہوا کچھ بھی کالا دھن سامنے نہیں آیا ۔
مجید میمن نے مزید کہا کہ پورے ملک کے ساتھ ساتھ مہاراشٹر کی حالت بھی ان کی پالیسیوں کی وجہ سے خراب ہو گئی ہے پونا میں ماروتی کمپنی بند ہو گئی جس میں ہزاروں لوگ بے روزگار ہو گئے اور یہ حالات پورے ملک کے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ معاشی طور پر ہم کمزور ہوتے جا رہے ہیں اس کے علاوہ بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم روزآنہ نئے نعروں کے ساتھ عوام سے وعدہ کرتے ہیں لیکن ان کے وعدے میں کوئی پیش رفت دکھائی نہیں دیتی ہے ۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔