
مہاتما گاندھی کی برسی / آئی اے این ایس
ہر سال 30 جنوری کو مہاتما گاندھی کی برسی منائی جاتی ہے۔ یہ دن صرف ایک عظیم رہنما کی یاد کا نہیں بلکہ اس نظریے کی یاد دہانی بھی ہے جس نے طاقت اور تشدد کے دور میں اخلاقی جرأت کو سیاست کی بنیاد بنایا۔ 30 جنوری 1948 کو گاندھی جی کی شہادت ہندوستانی تاریخ کا وہ لمحہ ہے جس نے یہ سوال ہمیشہ کے لیے زندہ رکھا کہ کیا انصاف صرف طاقت کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے، یا کوئی زیادہ انسانی راستہ بھی ممکن ہے۔
Published: undefined
مہاتما گاندھی کا سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے عدم تشدد کو کمزوری کے بجائے قوت کی علامت بنایا۔ ان کے نزدیک عدم تشدد خاموشی یا بے عملی کا نام نہیں تھا بلکہ یہ شعوری مزاحمت، اخلاقی استقامت اور سچ پر قائم رہنے کا راستہ تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ نفرت کے بغیر مخالفت اور انتقام کے بغیر جدوجہد ہی دیرپا تبدیلی لا سکتی ہے۔
برطانوی استعمار کے خلاف آزادی کی جدوجہد میں گاندھی جی کا کردار محض قیادت تک محدود نہیں رہا، بلکہ انہوں نے تحریک کے پورے مزاج کو بدل دیا۔ انہوں نے عوام کو یہ شعور دیا کہ آزادی صرف اقتدار کی منتقلی نہیں بلکہ سماجی اور اخلاقی بیداری کا عمل بھی ہے۔ عدم تعاون تحریک، سول نافرمانی اور خاص طور پر ڈانڈی مارچ اس بات کی مثال تھے کہ ریاستی جبر کے مقابلے میں عوامی ضمیر کس طرح ایک طاقت بن سکتا ہے۔ نمک جیسے روزمرہ مسئلے کو قومی وقار سے جوڑ کر انہوں نے ثابت کیا کہ سیاست عام انسان کی زندگی سے کٹ کر نہیں چل سکتی۔
Published: undefined
گاندھی جی کے لیے عدم تشدد کوئی وقتی حکمت عملی نہیں بلکہ مکمل طرزِ زندگی تھا۔ ان کا یقین تھا کہ جو مقصد تشدد کے ذریعے حاصل ہو، وہ نہ اخلاقی ہوتا ہے اور نہ ہی دیرپا۔ اسی لیے ان کا کہنا تھا کہ عدم تشدد انسانیت کے پاس سب سے بڑی طاقت ہے، جو تباہی کے مہلک ترین ہتھیاروں سے بھی زیادہ مؤثر ہے۔ یہی سوچ انہیں محض سیاسی رہنما نہیں بلکہ اخلاقی معلم بناتی ہے۔
گاندھی کے نظریات کی بازگشت ہندوستان تک محدود نہیں رہی۔ دنیا کے مختلف خطوں میں آزادی اور انصاف کی تحریکوں نے ان کے فلسفے سے رہنمائی حاصل کی۔ امریکہ میں شہری حقوق کی جدوجہد ہو یا جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کے خلاف تحریک، عدم تشدد نے یہ ثابت کیا کہ اصل طاقت بندوق یا جبر میں نہیں بلکہ عوامی شعور اور اخلاقی برتری میں پوشیدہ ہوتی ہے۔
Published: undefined
آج جب دنیا نفرت، تشدد اور شدید تقسیم کے ماحول سے گزر رہی ہے، گاندھی جی کا پیغام پہلے سے کہیں زیادہ معنی خیز محسوس ہوتا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ہم گاندھی جی کو یاد کرتے ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا ہم ان کے نظریے کو اپنی اجتماعی زندگی میں جگہ دیتے ہیں؟ کیا ہم اختلاف کو دشمنی میں بدلے بغیر برداشت کر سکتے ہیں؟ کیا ہم طاقت کے بجائے انصاف کو ترجیح دینے کا حوصلہ رکھتے ہیں؟
مہاتما گاندھی کی برسی ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ امن کوئی خیالی تصور نہیں بلکہ ایک شعوری انتخاب ہے۔ ان کی زندگی اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ اگر راستہ اخلاقی ہو اور نیت صاف ہو تو بظاہر کمزور نظر آنے والا اصول بھی تاریخ کا رخ موڑ سکتا ہے۔ یہی ان کا اصل ورثہ ہے اور یہی عدم تشدد کی سب سے بڑی طاقت۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined