
نودیپ سوری، تصویر بشکریہ @navdeepsuri
کانگریس کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا رکن پی چدمبرم نے الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) کو لے کر الیکشن کمیشن پر ’ووٹ دینے کے حق سے محروم شہریوں‘ کا ایک نیا طبقہ بنانے کا الزام عائد کیا۔ کانگریس لیڈر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یو اے ای میں ہندوستان کے سابق سفیر نودیپ سوری نے پنجاب میں چل رہے ایس آئی آر پر سوال اٹھایا۔
سابق سفیر نودیپ سوری سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر الیکشن کمیشن کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’پنجاب میں ایس آئی آر کو لے کر اپنا تجربہ شیئر کر رہا ہوں۔ میں بوتھ لیول آفیسر (بی ایل او) کے پاس گیا۔ میں نے اپنا ووٹر آئی ڈی کارڈ اور آدھار کارڈ جمع کرایا، مجھے بتایا گیا کہ سب کچھ ٹھیک ہے لیکن مجھے آج ایک رضاکار کا میسج موصول ہوا کہ کچھ معلومات 2003 کے ایس آئی آر سے میل نہیں کھاتیں۔‘‘
کانگریس لیڈر پی چدمبرم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’مصر اور متحدہ عرب امارات میں ہندوستان کے سابق سفیر اور آسٹریلیا میں سابق ہائی کمشنر مسٹر نودیپ سوری نے ایس آئی آر کے عمل کے حوالے سے کہا کہ اگر مجھے 3 ممالک میں ہندوستان کی نمائندگی کرنے کے بعد اپنی شہریت ثابت کرنے میں دشواری پیش آ رہی ہے تو عام شہری کا کیا حال ہوگا؟ غالباً یہی ’ایز آف لیونگ‘ (آسان زندگی) ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’ اب تک سامنے آنے والے نتائج کی بنیاد پر ایس آئی آر عمل کے اختتام پر ہندوستان کی بالغ آبادی کا 10 فیصد حصہ ’شہری‘ تو ہوگا، لیکن الیکشن کمیشن کی بدولت اسے ووٹ دینے کا حق حاصل نہیں ہوگا۔ یہ تعداد تقریباً 10 کروڑ افراد بنتی ہے۔ الیکشن کمیشن نے ’ووٹ دینے کے حق سے محروم شہریوں‘ کی ایک نئی قسم پیدا کر دی ہے۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ نودیپ سوری قاہرہ، دمشق، واشنگٹن، دارالسلام اور لندن میں ہندوستانی سفارتی مشنز میں خدمات انجام دے چکے ہیں اور جوہانسبرگ میں ہندوستان کے قونصل جنرل بھی رہے ہیں۔ نودیپ سوری کی خدمات کے اعتراف میں متحدہ عرب امارات کے صدر نے انہیں ملک کے دوسرے سب سے بڑے شہری اعزاز ’آرڈر آف زائد سیکنڈ‘ سے نوازا تھا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔