
8 نومبر 2018 کو نوٹ بندی کے دو سال پورے ہو گئے۔ ان دو سال میں صاف ہو گیا کہ کالا دھن نہ تو ندیوں اور تالابوں میں بہا دیا گیا اور نہ ہی انھیں جلا دیا گیا۔ وزیر اعظم نے تو ایسا ہی دعویٰ کیا تھا۔ لیکن ہوا کیا، امیر مزید امیر ہو گئے اور وزیر اعظم خاموش تماشائی بنے رہے۔ لیکن یہ بھی جاننے والی بات ہے کہ 8 نومبر 2016 کو ہوا کیا تھا؟ چلیے ذرائع سے ملی جانکاری کی بنیاد پر آپ کو بتاتے ہیں 8 نومبر 2016 کی سرگرمیوں کے بارے میں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ 8 نومبر 2016 کو وزیر اعظم نریندر مودی نے مرکزی کابینہ کی میٹنگ میں بتایا کہ انھوں نے خود نوٹ بندی کے معاملے پر تحقیق کی ہے اور اگر یہ ناکام ہوئی تو اس کی ذمہ داری اور جواب دہی بھی انہی پر ہوگی۔ نوٹ بندی کے بعد کئی وزرا نے اپنے میڈیا ذرائع سے یہ بات کہی بھی تھی۔
یہ بات بتاتے ہوئے وزیر اعظم کا لہجہ حسب سابق اناپرستی پر مبنی تھا۔ ریزرو بینک نے نوٹ بندی کے معاملے کی جانچ کر رہی پارلیمنٹ کی پی اے سی یعنی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو تحریری طور پر بتایا تھا کہ نوٹ بندی کی تجویز پر یوں تو کئی مہینوں سے بحث ہو رہی تھی لیکن حکومت نے صرف 7 نومبر 2016 کو آر بی آئی کو ایک نوٹ میں کہا تھا کہ ریزرو بینک کو 500 روپے اور 1000 روپے کے نوٹ بند کرنے پر غور کرنا چاہیے۔ یہ نوٹ ملنے کے بعد ریزرو بینک بورڈ کی اگلے دن یعنی 8 نومبر 2016 کو شام 5.30 بجے میٹنگ ہوئی۔
حالانکہ ابھی تک یہ صاف نہیں ہے کہ آر بی آئی بورڈ کی میٹنگ میں کن لوگوں نے حصہ لیا۔ ویسے اس وقت بورڈ کی میٹنگ میں آر بی آئی گورنر، دو ڈپٹی گورنر، گیٹس انڈیا فاؤنڈیشن کے سربراہ، مہندرا اینڈ مہندرا کے سی ایف او اور تین بڑے سرکاری افسروں کو شامل ہونا تھا۔ یہ خبریں بھی سامنے نہیں آئی ہیں کہ یہ میٹنگ کتنی دیر چلی تھی اور اس میں کیا بات چیت ہوئی۔
آر بی آئی اس میٹنگ کی جانکاری دینے سے لگاتار انکار کرتا رہا ہے۔ تمام آر ٹی آئی کے جواب نہیں دیے گئے اور نہ ہی آر بی آئی نے اس بورڈ میٹنگ کے منٹس ہی منظر عام پر لائے ہیں۔ لیکن یہ میٹنگ زیادہ دیر تو نہیں چلی ہوگی کیونکہ 8 بجتے بجتے وزیر اعظم نریندر مودی ٹی وی پر پہنچ چکے تھے اور اعلان کر رہے تھے کہ نصف رات سے ملک کی 86 فیصد نقدی غیر قانونی ہو جائے گی۔ ویسے اس اعلان سے پہلے انھوں نے مرکزی کابینہ کو اس بارے میں ضرور بتایا ہوگا۔
اب اگر حالات پر نظر ڈالیں تو نوٹ بندی کے فیصلے میں ساری انگلیاں صرف اور صرف وزیر اعظم کی طرف ہی اٹھ رہی ہیں۔ لیکن کئی سوال ہیں جن کا جواب حکومت نے آج تک نہیں دیا ہے۔ مثلاً:
ویسے نوٹ بندی کے بعد مرکزی وزیر پیوش گویل نے پارلیمنٹ میں کافی مایوس کن انداز میں بتایا تھا کہ ملک کی مانیٹری پالیسی تو آر بی آئی ہی چلاتی ہے اور طے کرتی ہے، حکومت تو صرف آر بی آئی کی سفارشات پر عمل کرتی ہے۔
لیکن پیوس گویل کا یہ بیان آر بی آئی کے اس تحریری جواب کے برعکس ہے جو اس نے پی اے سی کے سامنے دیا ہے۔ یہ اس بیان سے بھی الگ ہے جو وزیر اعظم نریندر مودی نے نوٹ بندی کے قریب ایک ہفتہ بعد 13 نومبر کو دیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ ’’میں نے دس مہینے پہلے اس بڑے آپریشن کے لیے ایک چھوٹی سی ٹیم بنائی تھی۔ نئے نوٹ چھاپنا، انھیں بینکوں تک پہنچانا، یہ ایک بڑا کام تھا۔ ہم نے ہوشیاری سے اسے سب سے چھپا کر رکھا کیونکہ بدعنوان لوگوں کے حکومت میں بھی بہت سارے ذرائع چھپے ہوئے ہیں۔‘‘ لیکن اس ’چھوٹی سی ٹیم‘ میں کون کون تھا، وزیر اعظم نے آج تک نہیں بتایا۔
آر بی آئی کے سابق گورنر رگھو رام راجن نے واضح کیا تھا کہ حکومت نے ان سے نوٹ بندی کے بارے میں مشورہ کیا تھا اور انھوں نے زبانی طور پر اس پر اعتراض ظاہر کیا تھا۔ انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے حکومت کو اس کے نقصان کے بارے میں بتایا تھا اور کہا تھا کہ اس کے لیے بڑے پیمانے پر تیاریوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
Published: 08 Nov 2018, 2:09 PM IST
دوسری طرف آر بی آئی کے ڈپٹی گورنر آر گاندھی نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ نوٹ بندی کو لے کر سرکاری تیاریاں پہلے سے ہو گئی تھیں۔ آر گاندھی اپریل 2017 میں سبکدوش ہو چکے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ نوٹ بندی سے ہونے والے نقصان کی سب کو جانکاری تھی، یہاں تک کہ نوٹ بندی کے بعد جو سرکلر وقت وقت پر آر بی آئی نے جاری کی تھیں، وہ بھی پہلے سے تیار کر لیے گئے تھے۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ نوٹ بندی کے بارے میں آر بی آئی گورنر کو پتہ نہیں تھا۔ لیکن ڈپٹی گورنر کو ساری جانکاری تھی۔ آر گاندھی نے بتایا تھا کہ نوٹ بندی سے بہت پہلے 2000 روپے کے نوٹ چھاپنے کا کام شروع ہو چکا تھا۔ لیکن حیرانی اس بات کی ہے کہ جب رگھو رام راجن نے اگست-ستمبر 2016 میں آر بی آئی کی ذمہ داری اُرجت پٹیل کو سونپی تو 29 اگست کو انھیں دی گئی ضروری رپورٹ میں انھوں نے نوٹ بندی کا کوئی ذکر ہی نہیں کیا اور نہ ہی یہ بتایا کہ 2000 روپے کے نوٹ چھاپے جا رہے ہیں۔
مجموعی طور پر بات یہ ہے کہ نوٹ بندی کے 2 سال بعد بھی ملک کو یہ نہیں پتہ کہ 8 نومبر سے پہلے اور بعد میں آخر ہوا کیا تھا۔ کوئی بات اگر یقین سے کہی جا سکتی ہے تو وہ یہ ہے کہ صرف نریندر مودی تھے جنھیں سب پتہ تھا، اور جیسا انھوں نے خود تھا کہ نوٹ بندی کی ناکامی کی ذمہ داری بھی صرف انہی کی ہے۔
Published: 08 Nov 2018, 2:09 PM IST
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 08 Nov 2018, 2:09 PM IST