قومی خبریں

وزارتِ کھیل کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج نہیں کرے گا ڈبلیو ایف آئی، بیک فُٹ پر سنجے سنگھ!

ڈبلیو ایف آئی کے معطل صدر سنجے سنگھ نے 15 جنوری کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’ہم میٹنگ کر رہے ہیں، مجھے امید ہے کہ سبھی منظور شدہ یونٹس میٹنگ میں حصہ لیں گی، ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>ڈبلیو ایف آئی الیکشن، تصویر سوشل میڈیا</p></div>

ڈبلیو ایف آئی الیکشن، تصویر سوشل میڈیا

 

ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا (ڈبلیو ایف آئی) کو معطل کیے جانے سے ناراض فیڈریشن کے نئے صدر سنجے سنگھ مرکزی حکومت کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرنے والے تھے، لیکن اب ایسی خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ ڈبلیو ایف آئی اس سلسلے میں عدالت کا رخ اختیار نہیں کرے گا۔ 16 جنوری کو ذرائع کے حوالے سے جو رپورٹس سامنے آ رہی ہیں اس میں بتایا جا رہا ہے کہ ڈبلیو ایف آئی کو معطل کیے جانے کے فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جائے گا۔

Published: undefined

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈبلیو ایف آئی نے وزارت کھیل کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج نہ کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ یہ خبر ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب معطل ڈبلیو ایف آئی آج ہی دہلی میں اپنی ایگزیکٹیو کمیٹی کی میٹنگ کرنے جا رہا ہے۔ اب تک کہا جا رہا تھا کہ وزارت کھیل کی تنبیہ کے باوجود قومی چمپئن شپ کی میزبانی کے اپنے فیصلے سے ڈبلیو ایف آئی پیچھے نہیں ہٹے گا۔

Published: undefined

واضح رہے کہ معطل ڈبلیو ایف آئی صدر سنجے سنگھ نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی سے 15 جنوری کو بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ہم میٹنگ کر رہے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ سبھی منظور شدہ یونٹس میٹنگ میں حصہ لیں گی۔ ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ قومی چمپئن شپ کی میزبانی کا فیصلہ اے جی ایم (سالانہ جنرل میٹنگ) میں لیا گیا تھا۔ اراکین فیصلوں پر تبادلہ خیال کریں گے اور ان کی تصدیق کریں گے۔‘‘

Published: undefined

واضح رہے کہ ڈبلیو ایف آئی صدر عہدہ پر حال ہی میں بی جے پی رکن پارلیمنٹ برج بھوشن شرن سنگھ کے قریبی سنجے سنگھ کا انتخاب ہوا تھا۔ اس کے فوراً بعد نومنتخب ایگزیکٹیو نے پہلوانوں کو تیاری کے لیے مناسب وقت دیے بغیر انڈر-15 اور انڈر-20 قومی چمپئن شپ کے انعقاد کا اعلان کر دیا۔ اس معاملے پر وزارت کھیل نے 24 دسمبر کو ڈبلیو ایف آئی کو اگلے حکم تک کے لیے معطل کر دیا تھا۔ اس کے بعد سنجے سنگھ نے کہا تھا کہ وہ اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج پیش کریں گے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined