
تصویر :
الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے بتایا کہ مغربی بنگال میں 26 فروری سے 6 اپریل کے درمیان تقریباً 327.44 کروڑ روپے کی غیر قانونی اور غیر مجاز اشیاء ضبط کی گئی ہیں۔ ریاست میں رواں ماہ کے آخر میں دو مرحلوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کی تیاریاں شباب پر ہیں۔ مغربی بنگال کے چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر نے ایک پریس بیان جاری کرکے ریاست میں ضبط کی گئی غیر قانونی اور غیر مجاز اشیاء کی تفصیلات بتائیں۔
Published: undefined
بیان میں بتایا گیا کہ مجموعی طور پر 11.01 کروڑ روپے کی ضبطی ہوئی ہے۔ غیر قانونی شراب کی مالیت 57.71 کروڑ روپے ہے جبکہ منشیات اور منشیات کی مالیت 67.35 کروڑ روپے ہے۔ اسی مدت کے دوران ضبط کی گئی قیمتی اشیاء کی مالیت 38.55 کروڑ روپے تھی جبکہ دیگر اشیاء کی مالیت 162.80 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔ بیان کے مطابق 4 اپریل تک ریاست میں 401 کارتوسوں کے ساتھ 251 غیر لائسنس یافتہ اسلحے اور سامان ضبط کیا گیا۔ اسی عرصے کے دوران 127.7 کلو گرام دھماکہ خیز مواد پکڑا گیا میں 887 بم شامل تھے۔
Published: undefined
اس کے ساتھ ہی ریاست کے سی ای او کے دفتر نے یہ بھی بتایا کہ غیر مجاز سیاسی اشتہارات کو ہٹانے کے لیے وسیع مہم چلائی جا رہی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ای سی آئی اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ مغربی بنگال کے تمام 294 اسمبلی سیٹوں پر انتخابات شفافیت، منصفانہ اور سیکورٹی کے اعلیٰ ترین معیارات کے ساتھ مکمل ہوں۔ یہاں 23 اپریل اور 29 اپریل کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔ مغربی بنگال سی ای او آفس ماڈل مثالی اخلاق کی تعمیل اور مرکزی مسلح پولیس فورس کی تعیناتی کی قریب سے نگرانی کر رہا ہے۔
Published: undefined
مغربی بنگال میں آئندہ اسمبلی انتخابات کے لیے سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ ریاست نے نیم فوجی دستوں کی اب تک کی سب سے بڑی تعیناتی کی ہے۔ ریاست میں تقریباً 2400 نیم فوجی کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں۔ ان کی کل تعداد تقریباً 2 لاکھ 40 ہزاربتائی جارہی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ تعیناتی پچھلے الیکشن کے مقابلے میں دوگنی ہے جو اس بار سیکورٹی کے حوالے سے انتظامیہ کی سنجیدگی کو ظاہر کرتی ہے۔ اس بار ریکارڈ تعداد میں خواتین سیکورٹی اہلکار بھی تعینات کی گئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق تقریباً 20 ہزار خواتین نیم فوجی اہلکار یعنی تقریباً 200 کمپنیاں الیکشن ڈیوٹی کے لیے تعینات کی گئی ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined