
پنچایت انتخابات میں تشدد کے درمیان شام 5 بجے تک 72.50 فیصد ووٹنگ ہوئی ہے۔
مغربی بنگال میں ریاستی الیکشن کمیشن کو دوپہر 2 بجے تک 500 شکایات موصول ہوئیں ہیں۔ کئی حصوں سے بوتھ پر قبضہ اور ووٹروں کو دھمکانے جیسی شکایتیں ہیں۔
مغربی بنگال کے پنچایت انتخابات میں اب تک تشدد کے چلتے کم از کم 11 لوگوں کے مارے جانے کی خبر ہے۔ جبکہ 50 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ وزارت داخلہ نے ممتا حکومت سے پورے معاملے میں رپورٹ مانگی ہے۔
انتخابی تشدد میں سی پی ایم کے دو کارکن اپو منّا اور جوگیشور گھوس اس تشدد میں مارے گئے ہیں۔ اب تک ہوئے تشدد میں 10 لوگوں کی جان جاچکی ہے۔
کولکتہ میں ریاستی الیکشن کمیشن کے دفتر پرکانگریس کارکن نے احتجاج کیا۔
ترنمول کانگریس نے بی ایس ایف پر مقامی انتخابات میں ’دخل اندازی‘ کا الزام عائد کیا اور ان سے پوچھا کہ کیا وہ بی جے پی لیڈروں کی شہ پر کام کر رہے ہیں۔ ترنمول کانگریس نے اس کے ساتھ ہی خبر رساں ادارے ANI کی ’افواہ‘ پھیلانے کو لے کر مذمت کی ہے۔
پنچایت انتخابات میں بھاری تشدد کے درمیان دوپہر 1 بجے تک 41.51 فی صد کی ووٹنگ درج کی گئی۔
مغربی بنگال پنچایت الیکشن کے دوران ندیہ ضلع کے نكشی پاڑا میں ہوئے تشدد میں ایک اور ٹی ایم سی کارکن کی موت ہو گئی، انتخابی تشدد کی وجہ سے یہ ساتویں موت ہے۔
اس دوران بی جے پی رہنما اور مرکزی وزیر بابل سپریو نے پنچایت انتخابات میں تشدد کے لئے ترنمول کانگریس حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا اور ریاست میں صدر راج لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔
پنچایت انتخابات کے دوران تشدد کو لے کر ٹی ایم سی رہنما ڈیرک اوبرائن نے سی پی ایم اور بی جے پی پر حملہ کیا ہے۔ انہوں نے ٹوئٹر پر لکھا، ’سی پی ایم اور بی جے پی اتنی بے چین ہوچکی ہے کہ آج بنگال میں ترنمول کارکنان پر حملے کے لئے ماؤنوازوں کے ساتھ مل گئے ہیں۔‘
مغربی بنگال کے درگاپور میں بی جے پی اور سی پی ایم کارکنوں کے درمیان شدید جھڑپ۔
بنگال کے كوچ وہار میں دو گروپوں کے درمیان جھڑپ میں تقریباً 20 افراد کے زخمی ہونے کی خبر ہے۔ زخمیوں نے حملہ کرنے کا الزام ترنمول کانگریس کے کارکنوں پر لگایا ہے، انہوں نے بتایا ’ہم وہاں ووٹ ڈالنے گئے تھے تبھی ٹی ایم سی کے لوگوں نے لاٹھیوں سے ہم پر حملہ کر دیا، ’تمام زخمیوں کو ایم جےاین اسپتال میں علاج کے لئے داخل کرایا گیا ہے۔
مشرقی مِدناپور ضلع کے کِیش پور میں پولنگ اسٹیشن کے قریب تشدد اور بم دھماکے کی خبر، اس دوران وہاں سے گزر رہی ایک 20 سالہ لڑکی کو تیر لگنے سے زخمی ہو گئی۔
امڈنگا کے پانچ پوٹا میں بم دھماکے میں ایک سی پی ایم کارکن کی موت ہو گئی جبکہ دو لوگ شدید طور پر زخمی ہو گئے۔ امڈنگا کے كُلتالی میں ایک ٹی ایم سی کارکن عارف غازی کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ ادھر، اُلڈنگا میں بم دھماکے میں پانچ افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
مغربی بنگال پنچایت انتخابات میں 11 بجے تک 26.28 فی صد ووٹنگ ہوئی۔
مغربی بنگال کے بيرپاڑا میں بوتھ پر قبضہ کے دوران ہوئے تشدد میں پانچ مقامی صحافی زخمی ہو گئے۔
مرشدآباد میں بی جے پی اور ٹی ایم سی کارکنوں میں تصادم اس حد تک بڑھ گیا کہ بیلٹ پیپر ہی تالاب میں پھینک دیے گئے، جس کے سبب ووٹنگ روک دی گئی۔
بھانگر ضلع سے بھی تشدد کی خبریں آ رہی ہیں، یہاں میڈیا کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ رپورٹیں کے مطابق میڈیا کی گاڑی کو آگ کے حوالے کر دیا ہے اور کیمرے بھی توڑ دیے گئے ہیں۔ میڈیا اہلکاروں کو علاقے کے اندر داخل نہیں ہونے دیا جا رہا۔
مغربی بنگال میں پنچایت انتخابات جاری ہیں لیکن کئی علاقوں سے تشدد کے واقعات ہونے کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ کئی بوتھوں پر خصوصی طور پر بی جے پی اور ترنمول کانگریس کے کارکنان آپس میں متصادم نظر آئے۔ اطلاعات کے مطابق چار اضلاع سے تشدد کی خبریں آ رہی ہیں جن میں کوچ بہار اور شمالی 24 پرگنہ ضلع سے 41 لوگوں کے زخمی ہونے کی خبریں ہیں۔ جنوبی 24 پرگنہ کے بھانگر میں میڈیا کی گاڑی کو بھی نذرِ آتش کر دیا گیا ہے۔ یہاں سے بم دھماکہ کی خبریں بھی مل رہی ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 14 May 2018, 12:24 PM IST