
سی وی آنند بوس / تصویر: ’ایکس‘ BengalGovernor@
مغربی بنگال کے گورنر سی وی آنند بوس نے جمعرات کو اچانک گورنر عہدہ سے استعفیٰ دے کر سبھی کو حیران کر دیا۔ وہ جمعرات کو دہلی میں تھے اور اس دوران ہی انھوں نے استعفیٰ نامہ صدر جمہوریہ کو بھیج دیا۔ موصولہ جانکاری کے مطابق تمل ناڈو کے گورنر سی وی روی کو عارضی طور سے مغربی بنگال کے گورنر عہدہ کی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے۔
Published: undefined
مغربی بنگال اسمبلی انتخاب سے عین قبل گورنر کا استعفیٰ سیاسی طور سے بہت اہم تصور کیا جا رہا ہے۔ گورنر کے طور پر آنند بوس ابتدا سے ہی ریاست کے کئی ایشوز پر بے باک رائے رکھتے رہے ہیں۔ وہ مغربی بنگال کی ممتا بنرجی حکومت کی مختلف پالیسیوں پر تنقید بھی کرتے رہے ہیں۔ ان کی مدت کار میں کئی امور پر ریاست و گورنر کے درمیان تصادم دیکھنے کو ملا تھا۔
Published: undefined
مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے گورنر کے اچانک استعفیٰ پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے سی وی آنند بوس کے استعفیٰ پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’مجھے ابھی استعفیٰ کے پیچھے کی وجہ معلوم نہیں ہے۔ حالانکہ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے مجھے حیرانی نہیں ہوگی اگر آنے والے ریاستی اسمبلی انتخاب سے ٹھیک پہلے گورنر پر مرکزی وزیر داخلہ نے کچھ سیاسی فائدے کے لیے دباؤ ڈالا ہو۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ نے ابھی مجھے بتایا کہ آر این روی کو مغربی بنگال کا گورنر بنایا جا رہا ہے۔ انھوں نے اس بارے میں طے رواج کے مطابق مجھ سے کبھی مشورہ نہیں لیا۔
Published: undefined
قابل ذکر بات یہ ہے کہ لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر کویندر گپتا نے بھی اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اس قدم سے ان کی 9 ماہ کی مدت کار ختم ہو گئی ہے، جو 18 جولائی 2025 کو شروع ہوئی تھی۔ کویندر گپتا، جنھوں نے مرکز کے زیر انتظام لداخ کے تیسرے ایل جی اور اس عہدہ پر بیٹھنے والے پہلے سیاسی لیڈر کی شکل میں تاریخ رقم کی، انھوں نے اپنا استعفیٰ ٹھیک اس وقت دیا جب ان کی تقرری کے ایک سال مکمل ہونے والے تھے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined