قومی خبریں

’ہم سے پوچھا ہی نہیں گیا‘، باغی ٹی ایم سی اراکین کے انضمام پر این سی پی آئی کے سکریٹری کا بیان

شانتنو ڈے نے انضمام کے عمل پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’’اگر میرے سوالوں کا جواب نہیں ملا تو کلکتہ ہائی کورٹ اور الیکشن کمیشن جاؤں گا۔ انضمام کا یہ عمل جمہوری نہیں ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>این سی پی آئی، تصویر (ویڈیو گریب)</p></div>

این سی پی آئی، تصویر (ویڈیو گریب)

 

ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے باغی اراکین پارلیمنٹ نے جس انتہائی کم مشہور ’نیشنلسٹ سٹیزنز پارٹی آف انڈیا‘ (این سی پی آئی)  میں انضمام کا اعلان کیا ہے، وہاں بھی آپسی اختلافات نظر آ رہے ہیں۔ این سی پی آئی  کے سکریٹری نے اس انضمام پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمل جمہوری نہیں ہے۔ انضمام سے قبل ہم سے پوچھا بھی نہیں گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ان کے سوالوں کا جواب نہ ملا تو وہ کلکتہ ہائی کورٹ بھی جائیں گے۔ این سی پی آئی کے سکریٹری شانتنو ڈے نے پارٹی قیادت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’’انضمام سے قبل پارٹی عہدیداروں سے کوئی بات نہیں کی گئی۔ ایسا فیصلہ اکیلے نہیں لیا جا سکتا۔ میاں-بیوی نے آپس میں ہی فیصلہ کر لیا۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے تریپورہ میں زمین پر کام کیا، انہیں ہی نظر انداز کر دیا گیا۔

Published: undefined

سکریٹری کی جانب سے ناراضگی کے اظہار کے بعد پارٹی کے سربراہ بھی سرخیوں میں آ گئے ہیں۔ این سی پی آئی کے بانی اتیا کنڈو اور ان کی اہلیہ شیولی موضوع بحث بنے ہوئے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ جوڑا تقریباً 8 سال قبل ندیا سے ہاوڑہ ضلع کے سنکرائیل میں آیا تھا۔ حالانکہ اتیا کنڈو کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری کے قریبی ہیں۔

Published: undefined

شیولی کنڈو کا کہنا ہے کہ ’’میں اس پارٹی کی بانی صدر تھی۔ لیکن میں نے صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ پارٹی کے نئے صدر ہی اس بارے میں معلومات دے سکتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ نیا صدر کون ہے۔ تریپورہ میں ہم این ڈی اے کے ساتھ تھے۔ ہائی کورٹ میں اپنی پریکٹس کی وجہ سے زیادہ وقت نہ دے پانے کے سبب میں نے (پارٹی عہدے سے) استعفیٰ دیا تھا۔ میں اس معاملے (ٹی ایم سی اراکین پارلیمنٹ کے این سی پی آئی میں انضمام) پر کوئی تبصرہ نہیں کروں گی۔ شانتنو ڈے نہ تو پارٹی کے بانی ہیں اور نہ ہی جنرل سکریٹری۔ 2023 کے بعد وہ رکن نہیں رہے۔‘‘

Published: undefined

شانتنو ڈے نے انضمام کے عمل پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’’اگر میرے سوالوں کا جواب نہیں ملا تو کلکتہ ہائی کورٹ اور الیکشن کمیشن جاؤں گا۔ انضمام کا یہ عمل جمہوری نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’میں جلد ہی اس معاملے میں ایک پریس کانفرنس کر کے کئی انکشافات کروں گا۔‘‘ ٹی ایم سی کے 20 باغی اراکین پارلیمنٹ کے این سی پی آئی میں انضمام کے اعلان کے ایک دن بعد سکریٹری شانتنو ڈے نے کہا کہ پارٹی سربراہ نے انضمام کی کسی بھی تجویز پر دیگر عہدیداروں سے کوئی بات نہیں کی تھی اور اشارہ دیا کہ اس فیصلے کو تنظیم کی منظوری حاصل نہیں تھی۔

Published: undefined

انضمام کی وجہ سے اچانک سرخیوں میں آئی پارٹی کے سکریٹری شانتنو ڈے کے اس دعوے کے بعد یہ کہا جا رہا ہے کہ پارٹی تنظیم کے اندر اختلافات صاف نظر آ رہے ہیں۔ لیکن انضمام کے اس ڈرامائی سیاسی واقعے نے ایک کم مشہور پارٹی کو قومی سطح پر بحث کا مرکز بنا دیا ہے۔ شانتنو نے بتایا کہ این سی پی آئی کی سیاسی سرگرمیوں کا دائرہ تریپورہ تک ہی محدود ہے اور پارٹی مغربی بنگال میں کبھی بھی فعال نہیں رہی ہے۔ اگرچہ پارٹی کو 2023 میں مغربی بنگال میں رجسٹر کیا گیا تھا، لیکن وہاں پارٹی کبھی سرگرم ہی نہیں رہی۔

Published: undefined

الیکشن کمیشن کے ریکارڈ کے مطابق این سی پی آئی نے 2023 کے تریپورہ اسمبلی انتخاب میں محض 3 سیٹوں (امباسا، چاوامنو اور کیلاشہر) پر انتخاب لڑا تھا، جبکہ کرم چارا سیٹ سے پارٹی کے امیدوار کی نامزدگی منسوخ ہو گئی تھی اور اس وجہ سے وہ انتخاب نہیں لڑ سکا تھا۔ اس سے قبل ٹی ایم سی کے 20 باغی اراکین پارلیمنٹ نے اسپیکر اوم برلا سے ملاقات کرنے اور بی جے پی کی زیر قیادت ’نیشنل ڈیموکریٹک الائنس‘ (این ڈی اے) کی حمایت کرتے ہوئے این سی پی آئی میں انضمام کا اعلان کیا تھا۔ باغی ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ کاکولی گھوش دستیدار نے تب کہا تھا کہ ’’ٹی ایم سی کے 2 تہائی اراکین پارلیمنٹ نے بیٹھنے کے الگ انتظامات کے لیے اسپیکر کو خط لکھا ہے۔ ہم این سی پی آئی میں انضمام کریں گے اور این ڈی اے کی حمایت کریں گے۔‘‘

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined