قومی خبریں

’ہم اپنا خون دینے کے لیے تیار، لیکن بنگال میں این آر سی کا نفاذ قبول نہیں‘، بی جے پی کو ممتا بنرجی کا چیلنج

ممتا بنرجی نے مرکزی حکومت پر الزام عائد کیا کہ این آر سی لانے سے پہلے ایک سازش کے تحت ایس سی، ایس ٹی اور اقلیتوں کے آدھار کارڈ غیر فعال کیے جا رہے ہیں، لیکن میں آدھار کا نیا متبادل پیش کر دوں گی۔

<div class="paragraphs"><p>ممتا بنرجی فائل فوٹو/&nbsp; تصویر ٹوئٹر&nbsp;<a href="https://twitter.com/AITCofficial">@AITCofficial</a></p></div>

ممتا بنرجی فائل فوٹو/  تصویر ٹوئٹر @AITCofficial

 

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اس بات سے بے حد ناراض نظر آ رہی ہیں کہ بڑی تعداد میں ریاستی عوام کا آدھار کارڈ غیر فعال ہو گیا ہے۔ پیر کے روز انھوں نے دعویٰ کیا کہ ریاست میں لوک سبھا انتخاب سے قبل درج فہرست ذات، درج فہرست قبائل اور اقلیتوں کے آدھار کارڈ غیر فعال کیے جا رہے ہیں۔ انھوں نے مرکزی حکومت پر الزام عائد کیا کہ قومی شہری رجسٹر (این آر سی) لانے سے پہلے ایسا سازش کے تحت کیا جا رہا ہے، لیکن میں ایسا ہونے نہیں دوں گی۔ ممتا بنرجی نے لوگوں کو بھروسہ دلایا کہ وہ بنگال کو آدھار کارڈ کا نیا متبادل پیش کریں گے۔ انھوں نے یہ بھی وعدہ کیا کہ مغربی بنگال میں این آر سی کسی بھی حال میں نافذ نہیں ہونے دیا جائے گا۔

Published: undefined

ممتا بنرجی نے این آر سی سے متعلق آج مرکز کی مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ’’میں بی جے پی سے پوچھتی ہوں کہ وہ یہ گندہ کھیل کیوں کھیل رہے ہیں؟ وہ لوگوں کا جمہوری حق، ضرورت مندوں کا حق چھین رہے ہیں۔‘‘ پھر وہ کہتی ہیں کہ ’’ہم بنگال میں این آر سی نافذ نہیں ہونے دیں گے۔ ہم اپنا خون دینے کے لیے تیار ہیں لیکن بنگال میں کسی بھی شخص کو باہر نہیں جانے دیں گے۔‘‘

Published: undefined

ممتا بنرجی نے میڈیا سے بات چیت کے دوران آدھار کی غیر فعالیت سے متعلق معاملہ پر کہا کہ بنگال میں لوک سبھا انتخاب سے قبل بڑی تعداد میں آدھار کارڈ کیوں غیر فعال کیے جا رہے ہیں۔ خاص طور سے متوا طبقہ کے ساتھ ایسا ہو رہا ہے۔ ہزاروں نام ہٹائے جا رہے ہیں۔ آخر ان لوگوں (بی جے پی والوں) کا منصوبہ کیا ہے۔ کیا یہاں یہ ڈٹینشن کیمپ بنانا چاہتے ہیں۔ جن متوا طبقہ کے ساتھ یہ کیا جا رہا ہے، وہ کھیتوں میں کام کرنے والے غریب مزدور ہیں۔

Published: undefined

اس درمیان ممتا بنرجی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک خط لکھا ہے۔ اس خط میں انھوں نے کہا ہے کہ ’’میں مغربی بنگال میں خاص طور سے ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی طبقات کو نشانہ بنا کر آدھار کارڈوں کو لاپروائی سے غیر فعال کرنے کی سخت مذمت کرتی ہوں۔ ہم سبھی ہندوستان کے شہری ہیں۔ ہر شہری مغربی بنگال حکومت کے فلاحی منصوبوں کا فائدہ اٹھا سکتا ہے، بھلے ہی ان کے پاس آدھار کارڈ ہو یا نہ ہو۔‘‘

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined