قومی خبریں

’ہم خواتین ریزرویشن بل کے خلاف نہیں‘، انڈیا بلاک کی میٹنگ کے بعد کانگریس صدر کھڑگے کا میڈیا سے خطاب

ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ ’’ہم سب خواتین ریزرویشن بل کے حق میں ہیں۔ لیکن جس طریقے سے اسے پیش کیا گیا ہے، وہ اعتراض کے قابل ہے اور ہم اس معاملے میں سنجیدہ فکر رکھتے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>انڈیا بلاک کی میٹنگ کا منظر، تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/INCIndia">@INCIndia</a></p></div>

انڈیا بلاک کی میٹنگ کا منظر، تصویر ’ایکس‘ @INCIndia

 

مودی حکومت نے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس طلب کیا ہے، جس میں حد بندی اور خواتین ریزرویشن بل سے متعلق کچھ اہم پیش قدمی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ اس معاملے میں آج انڈیا بلاک میں شامل پارٹیوں کے سرکردہ لیڈران نے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی رہائش پر انتہائی اہم میٹنگ کی۔ میٹنگ کی کچھ تصویریں شیئر کرتے ہوئے کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر لکھا ہے کہ ’’مودی حکومت پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلا کر بے حد خامیوں سے بھری اور غیر آئینی حد بندی کے عمل کو نافذ کرنے والی ہے۔ آج اس ایشو پر اہم میٹنگ ہوئی جس میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی اور اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران موجود رہے۔‘‘

Published: undefined

اس میٹنگ کے بعد کانگریس صدر کھڑگے نے میڈیا سے خطاب کیا۔ اس موقع پر انھوں نے کہا کہ ’’ہم سبھی خواتین ریزرویشن بل کے حق میں ہیں، لیکن جس طریقے سے اسے پیش کیا گیا ہے وہ اعتراض کے قابل ہے اور ہم اس معاملے میں سنجیدہ فکر رکھتے ہیں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’اس قدم میں سیاسی محرکات موجود ہیں۔ مودی حکومت اس طرح اپوزیشن پارٹیوں کو نشانہ بنانے اور دبانے کے لیے کام کر رہی ہے۔‘‘

Published: undefined

ملکارجن کھڑگے کا کہنا ہے کہ ’’ہم نے مسلسل خواتین ریزرویشن بل کی حمایت کی ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ اسے قبل میں منظور شدہ ترمیم کے مطابق نافذ کیا جانا چاہیے۔‘‘ وہ آگے کہتے ہیں کہ ’’حد بندی (ڈیلمیٹیشن) کے معاملے میں حکومت کچھ سازش کرتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ اس لیے تمام اپوزیشن پارٹیاں متحدہ موقف اختیار کریں گی اور پارلیمنٹ میں اس کے خلاف جدوجہد کریں گی۔‘‘ وہ اس بات کو دہراتے بھی ہیں کہ ’’میں واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ ہم خواتین ریزرویشن بل کے خلاف نہیں ہیں۔‘‘

Published: undefined

کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے بھی میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’سبھی اپوزیشن پارٹیاں چاہتی ہیں خواتین کو ایک تہائی ریزرویشن دیا جائے، اسے موجودہ لوک سبھا سیٹوں (543) کی بنیاد پر نافذ کیا جائے۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے مطالبہ کیا کہ ’’خواتین ریزرویشن کو 2029 کے لوک سبھا انتخاب سے ہی نافذ کیا جائے۔ سبھی اپوزیشن پارٹیاں حد بندی کے التزامات کے بالکل خلاف ہیں۔ ہم لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی بحث میں حصہ لیں گے اور اس کی مخالفت کریں گے۔‘‘

Published: undefined

جئے رام رمیش نے حد بندی کے لیے استعمال طریقۂ کار کو انتہائی خطرناک قرار دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’وزیر داخلہ اور حکومت کے وزراء نے کہا ہے کہ لوک سبھا میں 50 فیصد سیٹیں بڑھیں گی اور یہ یکساں تناسب کے طور پر سبھی ریاستوں کے لیے نافذ ہوگا۔ لیکن یہ بات اس بل میں شامل نہیں ہے۔ اس بل کے آنے سے جنوبی ہندوستان کی ریاستوں، شمال مغربی ہندوستان اور شمال مشرق کی ریاستوں کا تناسب گھٹے گا۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’بار بار یکساں تناسب کی بات کی جا رہی ہے، لیکن وہ حد بندی کے التزامات میں کہیں نظر نہیں آ رہا ہے۔ حد بندی کمیشن کی بات بھی کہی گئی ہے۔ حالانکہ اس کمیشن نے جموں و کشمیر اور آسام میں جیسا کام کیا ہے، اس سے صاف ہے کہ حد بندی کمیشن بی جے پی کا اسلحہ ہے، جس سے وہ اکثریت حاصل کریں گے۔‘‘

Published: undefined

انڈیا بلاک کی میٹنگ کا ذکر کرتے ہوئے جئے رام رمیش نے کہا کہ ’’آج سبھی اپوزیشن پارٹیوں کی میٹنگ ہوئی ہے۔ پارلیمنٹ میں جو 3 بل پیش کیے جا رہے ہیں، ان میں سے ایک آئین ترمیمی بل ہے اور 2 آئینی بل ہیں۔ مجموعی طور پر 3 بلوں پر بحث ہوگی۔‘‘ انھوں نے بتایا کہ ’’2023 میں آرٹیکل 334(اے) کو آئین میں شامل کیا گیا تھا۔ اس میں اتفاق رائے سے خواتین کو ایک تہائی ریزرویشن دینے کی بات کی گئی تھی۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس التزام کو فوراً نافذ کیا جائے۔‘‘ اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’ہمارا مطالبہ 2023 میں بھی یہی تھا کہ اس التزام کو 2024 کے لوک سبھا انتخاب سے ہی نافذ کیا جائے، لیکن حکومت نے مردم شماری اور حد بندی کی شرط لگا دی تھی۔ لیکن اب حکومت مغربی بنگال اور تمل ناڈو اسمبلی انتخاب کی تشہیر کے درمیان یہ 3 بل لا رہی ہے۔‘‘

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined